سینیٹ انتخابات: ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں کا پہلا، پی پی پی کا دوسرا نمبر


اسلام آباد (24 نیوز) سینیٹ کی 52 نشستوں پر انتخابات کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے پہلی مرتبہ سینیٹ انتخابات میں آزاد امیدواروں کی حیثیت سے حصہ لیا۔ قومی اسمبلی میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر 300 ووٹ کاسٹ کیے گئے جن میں سے 14ووٹ مسترد کردیئے گئے۔

اسلام آباد: سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 15 امیدوار کامیاب ہوگئے جبکہ پیپلز پارٹی نے مجموعی طور پر 12 اور تحریک انصاف نے 6 نشستیں حاصل کیں۔مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے پہلی مرتبہ سینیٹ انتخابات میں آزاد امیدواروں کی حیثیت سے حصہ لیا۔ سینیٹ کی 33 جنرل، علماء/ ٹیکنوکریٹس کی 9 ، خواتین کی 8 اور اقلیت کی 2 نشستوں کے لیے 131 امیدوار میدان میں تھے۔

اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 15 امیدوار کامیاب ہوئے۔ مجموعی طور پر 12 آزاد امیدوار، پاکستان پیپلز پارٹی کے 12، پاکستان تحریک انصاف کے 6، جمعیت علمائے اسلام اور نیشنل پارٹی کے دو دو جبکہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی کا ایک ایک امیدوار کامیاب ہوا۔

پنجاب کی 12 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 11 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جبکہ ایک نشست پاکستان تحریک انصاف کے نام رہی۔

سندھ کی 12 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی نے  10 اور مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم پاکستان نے 1،1 سینیٹ نشست حاصل کی۔

خیبر پختونخوا کی 11 نشستون میں سے پاکستان تحریک انصاف کے 5، ن لیگ کے حمایت یافتہ2 ، پیپلز پارٹی 2 اور جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے 1،1 امیدوار کامیاب ہوئے۔

بلوچستان کی 11 نشستوں میں سے  8 آزاد امیدوار، نیشنل پارٹی کے 2 اور جمعیت علمائے اسلام کا 1 امیدوار کامیاب ہوا۔

اسلام آباد کی سینیٹ کی 2 نشستیں ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں اور فاٹا کی 4 نشستیں آزاد امیدواروں کے نام رہیں۔

سینیٹ کی 33 جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں میں بلوچستان سے احمد خان (آزاد)، انوار الحق کاکڑ (آزاد)، کاؤدا بابر (آزاد)، محمد صادق سنجرانی (آزاد)، سردار شفیق ترین (آزاد)، مولوی فیض محمد (جے یو آئی ف) اور محمد اکرم (نیشنل پارٹی) سینیٹر منتخب ہوئے۔

جنرل نشست پر فاٹا سے ہدایت اللہ (آزاد)، ہلال الرحمان (آزاد)، مرزا محمد آفریدی (آزاد)، شمیم آفریدی (آزاد) سینیٹر منتخب ہوئے۔

اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ محمد اسد علی خان جونیجو جنرل نشست پر منتخب ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں جنرل نشست پر مشتاق احمد (جماعت اسلامی)، محمد طلحہ محمود (جے یو آئی ف)، سید محمد صابر شاہ (ن لیگ کے حمایت یافتہ)، فیصل جاوید (تحریک انصاف)، بہرہ مند (پیپلز پارٹی)، فدا محمد (تحریک انصاف)، محمد ایوب (تحریک انصاف) سینیٹر منتخب ہوئے۔

پنجاب اسمبلی سے جنرل نشست پر ن لیگ کے حمایت یافتہ آصف سعید کرمانی، ہارون اختر خان، مصدق مسعود ملک، رانا مقبول احمد، شاہین خالد بٹ، زبیر گل سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے چوہدری محمد سرور بھی جنرل نشست پر کامیاب قرار پائے۔

سندھ اسمبلی سے جنرل نشست پر محمد فروغ نسیم (ایم کیو ایم پاکستان)، سید مظفر حسین شاہ (مسلم لیگ فنکشنل) جبکہ پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی، انعام الدین شوقین، مولا بخش چانڈیو، مصطفیٰ نواز کھوکر اور سید محمد علی شاہ جاموٹ سینیٹر منتخب ہوئے۔

ٹیکنوکریٹس کی نشست پر کامیاب ہونے والے امیدواروں میں مشاہد حسین سید (ن لیگ کے حمایت یافتہ، اسلام آباد)، دلاور خان (ن لیگ کے حمایت یافتہ، خیبر پختونخوا)، محمد اعظم خان سواتی (تحریک انصاف، خیبر پختونخوا)، حافظ عبدالکریم (ن لیگ کے حمایت یافتہ، پنجاب)، اسحاق ڈار (ن لیگ کے حمایت یافتہ، پنجاب) رخسانہ زبیری (پیپلز پارٹی، سندھ)، سنکدر علی مندھڑو (پیپلز پارٹی، سندھ)، نصیب اللہ بازائی (آزاد، بلوچستان)، محمد طاہر بزنجو (نیشنل پارٹی، بلوچستان) شامل ہیں۔

سینیٹ میں خواتین کی نشست پر کامیاب ہونے والی امیدواروں میں ثناء جمالی (آزاد، بلوچستان)، عابدہ محمد عظیم (آزاد، بلوچستان)، روبینہ خالد (پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا)، مہر تاج روگھانی (تحریک انصاف، خیبر پختونخوا)، نزہت صادق (ن لیگ کی حمایت یافتہ، پنجاب)، سعدیہ خاقان عباسی (ن لیگ کی حمایت یافتہ، پنجاب)، کیشو بائی (پیپلز پارٹی، سندھ)، قرۃ العین مری (پیپلز پارٹی، سندھ) شامل ہیں۔

سینیٹ میں اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں پر پنجاب سے ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کامران مائیکل جبکہ سندھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار انور لعل دین سینیٹر منتخب ہوئے۔

’’نتائج اور طریقہ کار جاننے کے لیے یہاں کلک کیجئے‘‘

وزیراعظم کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی اور نزہت صادق بھی خواتین کی مخصوص نشست پر سینیٹر منتخب ہو گئی ہیں۔ اقلیتی نشست پرمسلم لیگ ن کےحمایت یافتہ کامران مائیکل 321 ووٹ لے کر سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔ خیبرپختونخوا سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ دلاورخان کامیاب ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہ کرنا بڑی خبر نہیں،نثار نے زبان کھول دی

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ٹیکنوکریٹ کی نشت پر کامیاب ہوگئے ہیں جب کہ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر ن لیگ کے حمایت یافتہ حافظ عبدالکریم بھی سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار مشاہد حسین سید بھی اسلام آباد سے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ مشاہد حسین 223 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوئے اور ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے راجہ شکیل عباسی کو 64 ووٹ ملے۔

 اسلام آباد کی دونوں نشستوں پر (ن) لیگ کےحمایت یافتہ امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اسلام آباد سے جنرل نشست پر اسد جونیجو 214 لے کرسینیٹر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے عمران اشرف کو 48 ووٹ ملے۔

سندھ سے پیپلزپارٹی نے ٹیکنوکریٹ کی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی۔ ڈاکٹر سکندر میندرو اور رخسانہ زبیری ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے۔ سندھ اسمبلی سے پی پی کے مولا بخش چانڈیو، رضا ربانی، مرتضیٰ وہاب، نواز کھوکھر اور محمد علی جاموٹ جنرل نشت پر کامیاب قرار پائے۔

سندھ اسمبلی میں اقلیتی نشست پر پیپلزپارٹی کے انور لال ڈین 100 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے اقلیتی رکن سنجے پروانی نے 43 ووٹ لیے۔ سندھ سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی کیوشو بائی اور قرۃ العین مری کامیاب قرار پائی ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی سے خواتین کی نشست پر پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد کامیاب قرار پائی ہیں۔

خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کی امیدوار مہر تاج روغانی سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں جب کہ ٹیکنو کریٹ کی نشست پر پی ٹی آئی کے اعظم سواتی بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں مولاناسمیع الحق ٹیکنو کریٹ کی نشست پر کامیاب نہ ہوسکے اور انہیں صرف 4 ووٹ ملے۔

فاٹا سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق چار سینیٹرز منتخب ہو گئے ہیں جن میں ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، شمیم آفریدی اور مرزا آفریدی کامیاب قرار پائے ہیں۔

بلوچستان میں 7 جنرل نشستوں پر 15 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 7 نشستوں پر 5 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جب کہ جنرل کی 2 نشستوں پر جے یو آئی (ف) اور نیشنل پارٹی کا ایک، ایک امیدوار کامیاب ہوا۔ بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار احمد خان، صادق سنجرانی اور انوار الحق سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ پشتونخوا میپ کے حمایت یافتہ یوسف کاکڑ بھی کامیاب قرار پوئے ہیں۔ اس کے علاوہ جے یو آئی کے مولوی فیض محمد بھی سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ سینیٹ معرکے کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہا۔ وقت ختم ہونے کے بعد جو لوگ پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود تھے صرف ان ہی کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت تھی۔

خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 65 ہے لیکن گزشتہ روز منظور کاکڑ کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا جس کے باعث تمام 64 اراکین نے ووٹ ڈالے اور اس طرح صوبائی اسمبلی میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 100 فیصد رہا۔

سندھ اسمبلی کے 161 سے نے ووٹ کاسٹ کیے جن میں سے پیپلزپارٹی کے 85 ارکان اور مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ 7 ارکان نے بھی ووٹ ڈالے۔

فاٹا کے 11 میں سے8 ارکان نےووٹ کاسٹ کیا، وزیرمملکت غالب خان وزیر، شہاب الدین اور پی ٹی آئی کے قیصرجمال نےووٹ نہیں ڈالا۔

علاوہ ازیں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد میں موجودگی کے باوجود سینیٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز بیماری کے باعث بیرون ملک موجود ہیں اس وجہ سے ووٹ نہیں ڈال سکیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں پولنگ کی نگرانی کے لیے نمائندے مقرر کیے جن میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران اور سیکریٹری نگرانی کے لیے موجود رہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب خیبرپختونخوا اسمبلی، ممبر الیکشن کمیشن، عبدالغفار سومرو بلوچستان اسمبلی، شکیل بلوچ سندھ اسمبلی اور الطاف ابراہیم قریشی پنجاب اسمبلی میں نگرانی کے لیے موجود ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے: لیگی ایم این اے طاہر اقبال چوہدری کا ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا اعلان

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کسی امیدوار نے کوئی شکایت نہیں کی، سب امیدواروں نے اچھے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا۔ ہارس ٹریڈنگ کی شکایت کے سوال پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انہیں کسی نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پر مکمل پابندی تھی۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی تھی اور جعلی بیلٹ پیپر استعمال کرنے پر کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا رکھی گئی تھی جب کہ الیکشن کمیشن مجاز تھا کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔