یوم صحافت’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘‘

یوم صحافت’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘‘


24 نیوز: آج آزادی صحافت یا آزادی اظہار رائے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، پاکستان صحافت کےلحاظ سے دنیا کے چند خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں آزادی اظہار کے جرم میں درجنوں صحافی اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے صحافی ہوں یا قبائلی علاقوں کے آزادی صحافت کے اعتبار سے خطرناک ترین حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جہاں گزشتہ چند برسوں میں باجوڑ کے ابراہیم، مہمند ایجنسی کے مکرم خان عاطف، خیبر ایجنسی کے محبوب شاہ اور نصراللہ سمیت 14 صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں شہید کیا گیا۔

دہشتگردی، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور دھونس دھمکی صحافیوں کے کام کے ساتھ ساتھ ان کی نجی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جو آزادی اظہار رائے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

موجودہ صورتحال میں آزادی صحافت کا دن شدت سے اس بات کا متقاضی ہے کہ ریاست اور صحافتی ادارے آزادی صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ معاشرے کی بہتری اور حقیقی معنوں میں تبدیلی آ سکے۔

پاکستان میں صحافیوں کو بہت سے خطرات لاحق ہیں1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد دنیا بھر میں ہر سال 3مئی کو پریس فریڈم ڈے منایایا جاتاہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صحافیوں کے لئے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔

جس کو طوفاں سے الجھنے کی ہو عادت محسن

ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتا ہے

فریڈم نیٹ ورک کے مطابق پاکستان میں 150سے زائد بار حملے کئے گئے۔ سنئیر صحافیوں کااس حوالے سے کہنا تھا کہ حکومت نے تحفظ کے لئے ابھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ سنئیر صحافی افضل بٹ اور اعزاز سید کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لئے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

حیران کن طور پر پچھلے برس پیش آنے والے 157واقعات میں سے 34فیصد واقعات اسلام آباد میں ہوئے۔ واقعات کی روک تھام کیلئے حفاظت کے ساتھ ساتھ بہتر حکمت عملی اور اگاہی کی اشد ضرورت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کے صحافت ایک مشکل ترین شعبہ ہے اور وطن سے محبت رکھنے والا صحافی بغیر کسی ڈر وخوف کے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے لیکن لمحہ فکریہ  ہے کہ صحافی کی جان کی حفاظت کے لیے حکومت نے اب تک کوئی اقدام نہیں کیے ۔

مارٹن لوتھر نے کہا تھا ’’اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو اپنا قلم اٹھائیں اور لکھنا شروع کردیں ‘‘ اس وقت صحافت ہی ایک ایسا پیشہ ہے جس کے ذریعے آپ عوام کے مسائل اور اپنے نظریات دونوں کا پرچار کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سفر اتنا آسان نہیں ہے جتنا لوگ اسے سمجھتے ہیں اور خاص کر اس عہد میں جہاں ہر شے کا مقصد مال بنانا یا بٹورنا ہو۔

اللہ سے کرے دور،تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

ہم سلام پیش کرتے ہیں صحافت سے تعالق رکھنے والی ان تمام شخصیات کو جنہوں نے اپنی ثابت قدمی سے جابر حکمرانوں کے تمام مکروہ عزائم کو ناکام بنایا۔ بلاشبہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا وہ آئینہ ہے جس میں کرپٹ عناصر اپنا اصل چہرہ دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں  اور پھر اپنا عمل اور کردار درست کرنے کی بجائے آئینہ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ماجودہ حکومت صحافت کے تحفظ کے لیے جلد سے جلد اقدام کرے۔