سٹیفن ہاکنگ دنیا سے جاتے جاتے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھا گیا

سٹیفن ہاکنگ دنیا سے جاتے جاتے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھا گیا


واشنگٹن(ویب ڈیسک) اسٹیفن ہاکنگ رواں برس 14 مارچ کو 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے،وہ گذشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھے اور وہیل چیئر پر بیٹھ کر سائنسی میدان میں خدمات انجام دے رہے تھے،بلیک ہولز اور نظریہ اضافیت پر انقلابی تحقیقاتی مقالے لکھنے پر اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا سب سے بڑا اور باصلاحیت سائنس دان سمجھا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔

انہوں نے آئن سٹائن کی طرح سائنسی میدان میں انقلاب برپا کیا ہے،ان کی خدمات صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی،جسمانی طور پر معذور شخص مرتے مرتے ایسا کام کرگیا ہے شاید کو ئی تندرست سائنسدان ایسا کام کرسکے۔ان کا آخری مقالہ منظر عام پر آگیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کائنات ایک نہیں بلکہ اَن گنت ہیں، اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی وفات سے 10 روز قبل سائنسی جریدے 'ہائی انرجی فزکس' کو یہ مقالہ بھیجا تھا، جس میں ایک سے زائد کائنات ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرین آثار قدیمہ نے 550سال قدیم بچوں کی قربان گاہ دریافت کر لی

اس مقالے پر انہوں نے بیلجیئم کی کے یو لیووین یونیورسٹی کے پروفیسر تھومس ہرٹوگ کے ساتھ مل کر کام کیا تھا،یہ مقالہ پروفیسر ہاکنگ اور پروفیسر ہرٹوگ کی 20 سالہ محنت کا نتیجہ ہے، جس کی بنیاد آنجہانی سائنسدان کی ہی ایک تحقیق بنی۔

واضح رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ نے 1980 میں ایک امریکی سائنسدان ہارٹل کے ساتھ کائنات کے نکتہ آغاز کے حوالے سے تحقیق کی تھی، جس کے دوران انہوں نے کائنات کے مختلف پہلووں کو جانچا تھا۔

جب دوسرے سائنس دانوں نے اس نظریے کا غور سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ بگ بینگ سے صرف ایک نہیں بلکہ اَن گنت کائناتیں تشکیل پا سکتی ہیں ان میں سے بعض کائناتیں بالکل ہماری کائنات کی طرح کی ہوں گی،اس کے علاوہ دوسری کائناتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو ہماری کائنات سے یکسر مختلف ہوں،سائنسدانوں کے مطابق اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک کائنات سے دوسری کائنات تک کا سفر بھی ممکن ہے۔