علی گڑھ یونیورسٹی سے قائداعظم کی تصویر غائب، بھارتی طلباء کا احتجاج، 30 زخمی

علی گڑھ یونیورسٹی سے قائداعظم کی تصویر غائب، بھارتی طلباء کا احتجاج، 30 زخمی


(24 نیوز) بھارت میں عدم برداشت کی حد ہوگئی، قائد اعظم کی تصویر غائب ہونے کے بعد طلبہ کا احتجاج زور پکڑ گیا، تیس طلبہ زخمی ہو گئے۔

 پڑھنا مت بھولئے:  100 کے کارڈ پر 40روپے کٹوتی کیوں؟ چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا

24 نیوز ذرائع کے مطابق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر علی گڑھ یونیورسٹی سے ہٹائے جانے کے معاملہ پر طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔دوسری جانب تصویر کے غائب ہونے کی شکایت درج کرانے کے لیے تھانے جانے والے مظاہرین پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی۔ احتجاجی طلبہ نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے رہنما ستیش کمار کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔

قائداعظم محمد علی جناح کو 1938 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی تھی اور ان کی تصویر دیگر رہنماؤں کے ساتھ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ یونین آفس میں لگائی گئی تھی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: رنویر سنگھ ،دپیکا پڈوکون کی شادی کی تاریخ سامنے آگئی

تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ستیش کمار نے رواں ہفتے 30 اپریل کو علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کے نام لکھے گئے خط میں یونیورسٹی میں آویزاں محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد گذشتہ روز قائداعظم کی تصویر راتوں رات غائب ہوگئی تھی، تاہم اس حوالے سے اب تک کچھ سامنے نہیں آیا کہ یہ تصویر کس نے ہٹائی ہے۔