نواز شریف لندن نہیں جیل جائیں گے



اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن نہیں جیل جائیں گے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطلی اور ضمانت میں توسیع کیلئے نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رہائی علاج کیلئے دی تھی، ٹیسٹوں پر ضائع کر دی۔معلوم نہیں ہر چیز کو سیاسی رنگ کیوں دیا جاتا ہے، ہر بات پر عدالت کی تضحیک کی کوشش کی جاتی ہے۔

علاج کے6ہفتےٹیسٹوں میں کیوں ضائع کیے؟سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کی توسیع ضمانت کی درخواست مستردکردی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےتین رکنی بنچ نےسابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کی سماعت کی۔درخواست میں بیرون ملک علاج کرانےکی اجازت کی بھی استدعا کی گئی۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہانوازشریف کی صحت ایسی نہیں کہ جیل جاسکیں۔ان کی بیماری بڑھ چکی ہے اورعلاج جاری ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتےہوئےکہا کہ ہم تویہ سمجھےتھےکہ ان کی جان کوخطرہ ہے۔

اسی نکتے پرچھ ہفتے دیے تھے۔آپ نے چھ ہفتےصرف ٹیسٹ پرلگادیے۔کسی ڈاکٹرنےنہیں کہاکہ لندن کےعلاوہ کہیں علاج نہیں ہوسکتا چیف جسٹس نے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا اچھے ڈاکٹرز، جدید مشینیں موجود ہیں۔کیسے معلوم ہوا کہ پاکستان میں علاج ممکن نہیں؟ہرچیزکوسیاسی رنگ کیوں دیاجاتاہے؟ہربات پرعدالت کی تضحیک کی کوشش کی جاتی ہے۔طویل دلائل کےبعد سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کومسترد کردیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحیی آفریدی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ دلائل دیے جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تھینک یو خواجہ صاحب۔اس کے بعد ججز نے کچھ دیر مشاورت کی اور چیف جسٹس نے ’ڈسمس‘ کہہ کر درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer