مولانا سمیع الحق کو اکوڑہ خٹک میں سپرد خاک کردیا گیا



اکوڑہ خٹک(24نیوز)راولپنڈی حملے میں شہید ہونیوالے جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی نماز خنازہ گورنمنٹ خوشحال خان خٹک کالج میں ادا کردی گئی، امیر جماعت اسلامی سراج الحق،مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق،گورنر خیبر پی کے شاہ فرمان،وزیر اعلیٰ محمود خان،ظفر اقبال جھگڑا،جاوید ہاشمی،مشتاق احمد خان، سمیت ہزاروں افراد جنازے میں شریک ہوئے،نماز جنازہ ان کے بیٹے مولانا عبدالحق نے پڑھائی۔

میت کو آبائی شہر اکوڑہ خٹک کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا جائیگا۔

مولانا سمیع الحق کے قتل کی ابتدئی تحقیقات شروع کر دی گئیں

 جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم اور سابق سینیٹر جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق گزشتہ روز قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئےتھے، جن کے قتل کی ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئیں ہیں۔ 

تفتیشی ذرائع کے مطابق مولانا کے ملازم اور گن مین کوحفاظتی تحویل میں لے لیا گیا جن سے پو چھ گچھ کی جارہی ہے،  دو حملہ آور مولاناکی عیادت کے بہانے آئے مولانا نے اپنے ملازم کو ان کی خاطر تواضع کے لئے بازار سے کچھ لانے کےلئے کہا، گن مین اور ملازم ایک ساتھ گھر سے نکلے، تفتیشی ذرائع کا کہنا تھا کہ  عیادت کے لئے آنے والے پہلے بھی آتے رہتے تھے اور گزشتہ روز بھی عیادت کے بہانے ہی آئے تھے اور قریبی معلوم ہو تے ہیں کیونکہ دونوں ملازم پُرسکون ہو کر گھر سے نکلے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کا بتانا تھا کہ عیادت کے لئے آنے والے پہلے سے ہی مولانا کو جانتے تھے اس لئے جب ملازم گھر سے نکلے تو انہوں نے ان پر بھروسہ کیا جس کے بعد حملہ آوروں نے ان کی گردن اور چہرے پر وار کئے جو کہ جان لیوا ثابت ہو ئے،پولیس کی جانب سے کی گئی اب تک کی تحقیقات میں ایک گلاس ملا ہے جس میں حملہ آوروں نے پانی پیا، گلاس سے فنگر پرنٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس کے علاوہ مولانا سمیع الحق کے گھر سے تفتیشی ادارے اور فرانزک ٹیمیں تحقیقات میں مصروف ہیں، مولانا سمیع الحق کے زیر استعمال اور کمرے کی چیزوں پرموجود فنگرپرنٹس بھی لئے گئے، گھر کو شواہد اکٹھے کرنے کے بعد سیل کردیا گیا،آس پاس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جاری ہے جس سے قاتلوں کی شناخت ہو سکےاور قریبی علاقہ کے لوگوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرنا شروع کردئیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر پر آرام کررہے تھے کہ مسلح افراد نے چھریوں سے حملہ کیامولانا کے ڈرائیور اور محافظ کچھ دیر کیلئے باہر گئےواپس آئے تو مولانا سمیع الحق اپنے بستر پر خون میں لت پت پڑے تھے، طبی امداد کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ،دوسری جانب یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ قتل کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے؟