کیا اب میں بشریٰ بی بی سے۔۔۔خاور مانیکا رو پڑے

کیا اب میں بشریٰ بی بی سے۔۔۔خاور مانیکا رو پڑے


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے پرازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی،نیکٹا سربراہ نے رپورٹ عدالت میں پیش کردی، چیف جسٹس نے تمام فریقین سے تین دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کو باربار پڑھیں اور تعویز بنا لیں، سوموار تک فیصلہ سنا دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کے ازخود نوٹس کی کی سماعت ہوئی،سابق ڈی پی او پاکپتن خاور مانیکا اور احسن جمیل گجرعدالت پیش ہوئے،کیس کی انکوائری رپورٹ سربراہ نیکٹا خالق داد لک نے پیش کی،

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب احسن جمیل جھک کے کھڑے ہیں، پہلے انکی ٹون ہی الگ تھی، اب معافی مانگ رہے ہیں، کیوں نہ انکے خلاف انسداد دہشت گردی کا مقدمہ چلائیں،تمام فریقین تین دن کے اندر جواب جمع کرائیں۔

نیکٹا کے سربراہ خالق دادلک نے عدالت کو بتایا کہ ایک ایشو وزیراعلیٰ کے کنڈیکٹ کا تھا،ڈی پی او کو  پیغام دینا تضحیک آمیز تھا یہ کہنا بھی تضحیک آمیز تھا کہ اس واقعہ سے سب کا نقصان ہو گا،انکوائری رپورٹ کے مطابق احسن جمیل گجر کا رویہ تضحیک آمیز تھا، احسن جمیل گجر کے خلاف کارروائی قانونی معاملہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بادی النظر میں سب کا نقصان ہونا مبہم دھمکی ہے، احسن جمیل گجر بچوں کے خود ساختہ گارڈین بنے، قانونی رائے کے بعد احسن جمیل کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جی خاور مانیکا صاحب آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، خاور مانیکا نے کہا کہ سر رپورٹ میں کئی چیزیں سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہیں، کیا اپنی سابقہ بیوی سے بات کرتا کہ وہ عمران خان سے بات کرتی اس معاملے میں، خاور مانیکا عدالت میں آبدیدہ ہوگئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے مجبور نہ کریں کہ آپ کے ساتھ سختی سے پیش آؤں،آپکو رپورٹ پر اگر تحفظات ہیں تو تحریری جواب جمع کرا دیں،مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی گئی،سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں احسن جمیل گجر کا کہنا تھا کہ امید ہے انصاف ہوگا،میں نے کوئی سیاسی مداخلت نہیں کرائی،صحافی نے سوال کیا کہ اگرسیاسی مداخلت نہیں کرائی تو معافی کیوں مانگی جس پر احسن جمیل گجر نے کہا کہ بزرگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔