ٹریفک پولیس کے اقدامات اور عوام

ٹریفک پولیس کے اقدامات اور عوام

تحریر:اظہر تھراج


لاہورکے نیازی اڈے سے اسٹیشن کی طرف آئیں تو راستے میں لکشمی چوک سے پہلے لاہور ہوٹل آتا ہے وہاں جگہ جگہ رش لگا ہوا ملے گا،یہاں نئے ،پرانے موٹر سائیکلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے،آج کل یہاں موٹر سائیکلوں کے ساتھ سب سے زیادہ  ہیلمٹ خریدنے اور بیچنے والے ملتے ہیں

،لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ پہننے کی پابندی پر عمل کرنا شروع کردیا ہے،دکانداروں کی تو جیسے چاندی ہوگئی،ڈبل کمائی جاری ہے،مال روڈ پر جائیں تو آپکو کوئی دیگچی کاٹ کر سر پر باندھے ہوئے تو کوئی گتے کا ہیلمٹ سجائے گھوم ملے گا،ایک تو مٹی کے پیالے سے ہی ہیلمٹ کا موجد بن گیا،یہ منظر آپ جا بجا دیکھیں گے۔

ویڈیو دیکھیں:

سنا تھا کہ چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں،ٹریفک وارڈنز کو حکم کیا ملا کہ سب کچھ بن بیٹھے،خود ہی تھانیدار،خودہی منصف ،چالان تو ان کا حق تھا ہی عوام کو سزائیں دینا بھی جہیز میں لے لیا،کسی کو بھرے چوک میں ”مرغا“بنایا تھا تو کسی کے تھپڑوں سے گال گرم کیے،عام دنوں میں چوکوں میں”ماڈلنگ“کرنے کے شوقین وارڈنز اپنے سی ٹی او کی شہہ پر ٹی وی رپورٹرز بھی خود بن گئے،جب گرے وردی والے آپے سے باہر ہوئے تو ہائیکورٹ کو قابو کرنا پڑا۔

اب ذرا سڑکوں کا جائزہ لیں تو آپ کو ٹریفک جام ہی نظر آئے گی،سفر کریں تو مسافروں اور بسوں، ویگنوں کے ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں کے درمیان ”جنگ “چھڑی ہوتی ہے، سابق حکومت نے 2010ءمیں اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بنائی تھی۔ جو بہت تگ و دو کرنے کے باوجود اوورچارجنگ پر قابو نہیں پاسکی،لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن انسپکٹرز کی تعداد صرف 180 ہے،جو ڈینگی مہم میں بھی ڈیوٹیاں دیتے ہیں، سیکرٹری آر ٹی اے کے ساتھ بھی صلاحیتیں کھپاتے ہیں،کچھ تو گھر بیٹھ کر تنخواہیں لینے کے بھی عادی ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

ہم عوام بھی کیا ڈھیٹ ہیں،جہاں لکھا ہوتا ہے نو پارکنگ وہیں گاڑی کھڑی کرتے ہیں،جہاں رکنا ہوتا ہے وہاں چل دیتے ہیں اور جس جگہ چلنا ہوتا ہے وہا ں رک جاتے ہیں۔ٹریفک لائن کراس کرنا، ایک دوسرے سے آگے نکلنا تو محبوب مشغلہ ہے،ہم شاید دنیا کی ”ویہلی“مصروف قوم ہیں جو ہر وقت جلدی میں ہوتے ہیں،فٹ پاتھوں کو اپنی ملکیت سمجھ کر ریڑھیاں لگاتے،تھڑے بناتے ہیں،جہا ں صاف دیوار نظر آتی ہے اپنا اشتہار چپکا دیتے ہیں،اپنی کاریگری چمکاتے ہوئے مفت میں مارکیٹنگ کرلیتے ہیں،یہاںتک رہتے تو کچھ عزت تھی،حد تو یہ ہے کہ ہلکا ہونے کیلئے دائیں،بائیں دیکھ کر سڑکوں ،گلیوں کو بھی ٹائلٹ بنا دیتے ہیں۔

بیچارے عوام بھی کیا کریں جو سیکھا ہے وہی کریں گے،یہ سب حکمرانوں سے ہی تو سیکھا ہے،آپ جب روڈ ز پرنکلتے ہیں تو اسے اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لیتے ہیں، قافلوں میں گاڑیاں گنتے گنتے تھک جاتے ہیں،طاقت کے نشے میں مست وزرا کی اکڑی گردنیں آس پاس دیکھیں تو ان کو مسائل بھی نظر آئیں،دھوتی اور بنیان میں کھڑاکسان نظر آئے،تبتی دھوپ میں بیلچہ چلاتا مزدور نظر آئے،ناتواں کمر سے باندھے وزنی ریڑھی کھینچتا بزرگ دیہاڑی دار دکھے۔

حکومت اور انتظامیہ عدالت کے حکم پر مریض کا جسم سن کیے بغیر آپریشن کرنا چاہتی ہے،سدھائے بغیر بیل سے ریڑھی چلانے کا کام لینا چاہتی ہے،ایسا ہوگا تو پھر ردعمل تو یقینی، احتجاجاً رکشے اور گاڑیاںجلاناتو معمول بن جائے گا۔ ٹریفک پولیس عوام کو تکلیف دینے کے بجائے ریلیف دے۔