فنانس ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور


اسلام آباد( 24نیوز )فنانس ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا، حکومت نے نان فائلرز کو گاڑی اور جائیداد خریدنے کی اجازت دینے کی شق واپس لے لی۔

 وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دوسو سی سی موٹر سائیکل خریدنا اور وراثتی جائیداد کی منتقلی ممکن ہو گی، اوورسیز پاکستانیز گھر اور گاڑی لے سکیں گے۔ انہوں نے کہا بڑے نان فائلرز کیخلاف کل سے کمپین کا آغاز ہوگا، 169 بڑے نان فائلرز کیخلاف نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، ابھی بھی وقت ہے ٹیکس نیٹ میں آجائیں، ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔

شیر سکڑ کر بلی بن گئی:اسد عمر

قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں جاری ہے،وزیر خزانہ اسد عمر خطاب کررہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

وزیر خانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ شاید شیر سکڑ کر بلی بن گئی اس لئے اپوزیشن لیڈر کو بلی یاد رہ گئی،اب قوم کا پیسہ قوم پر خرچ ہوگا، آئیں اور اس میں اپنا حصہ ڈالیں، بینکوں میں بڑی رقم رکھنے والے نان فائلرز کو پکڑیں گے
وزیر خزانہ نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو کام یہ 40 سال میں نہ کر سکے ہم سے پوچھتے ہیں کہ 40 دن میں کیوں نہ کیے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بیواوں کی پنشن روکی ہوئی تھی، پی آئی اے کا جہاز اڑ نہیں سکا کیوں کہ ادارے پر قرض اتنا بڑھ چکا تھا۔
اسد عمر نے کہا کہ دودھ اور شہد کے بہتی ہوئے نہروں کے سائے میں گزشتہ سال گردشی قرضے میں 400 ارب سے زائد اضافہ ہوا، یہ گردشی خسارہ دودھ اور شہد کی نہروں کے سائے میں بڑھا، گزشتہ سال میں گردشی قرضوں میں 453 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آج مجموعی طور ہر گردشی قرضہ 1200 ارب تک پہنچ چکا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 454 ارب روپے کا خسارہ صرف گیس کے شعبے میں ہے، تمام آئی پی پیز کہہ رہی ہیں کہ ہم میں بجلی کی پیداوار نہیں دے سکتے، آج ریاست مدینہ کا ذکر کرنے والے کاش اپنی حکومت سے بھی سوال کرلیتے، ٹرانسمیشن لائنز بچھاتے ہوئے کم ترقی یافتہ اور دور دراز علاقے نظر انداز کئے گئے، افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو لوڈشیڈنگ نے مار دیا اور کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے اس لیے لوڈشیڈنگ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بجلی ہو بھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک نہیں پہنچائی جاسکتی۔

دھرنا دینے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے: بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ پارلیمان کوئی کنٹینر نہیں ہے جب کہ دھرنا دینے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے۔

ویڈیو دیکھیں:

قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے پاکستان کے پہلے بجٹ سے بہت توقعات تھیں لیکن ضمنی بجٹ میں 100 روزہ پلان کا کوئی نام و نشان نہیں، تحریک انصاف کے ووٹرز بھی آج مایوس ہیں، جن ووٹروں نے دو نہیں ایک پاکستان کے لیے ووٹ دیا وہ آج مایوس ہیں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں؟ ترقیاتی بجٹ میں کٹوٹی، صحت، تعلیم بجٹ میں کٹوتی، آپ نے تو صحت، تعلیم کا بجٹ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا ،کٹوتی کر دی، حکومت کا 100 روزہ ترقیاتی پلان کہاں ہے؟ صحت کا وعدہ کیا گیا اور صحت کے بجٹ پر کٹ لگادیا گیا، عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں پر حکومت نے بجٹ مختص نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھاکہ فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی، کسان مشکل میں ہیں، وعدہ کیا گیا تھا لیکن پانی کی کوئی اسکیم نہیں دی گئی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے غریب کی زندگی مشکل ہوتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کہا گیا تھا کہ بھیک نہیں مانگی جائے گی، قرضے نہیں لیے جائیں گے لیکن اب کیا ہورہا ہے، ایف اے ٹی ایف معاملے پر کیا اقدامات کیے گئے پارلیمنٹ کو بتایا جائے، دھرنا دینے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہوتا ہے، آپ نے اب سنجیدہ سیاست کرنی ہے پالیسیاں بنانی ہے، آپ نے آج سنجیدہ فیصلے لینے ہیں فیصلوں پر یوٹرن نہیں لینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اس کے فیصلوں کو اثر کروڑوں عوام پر پڑتا ہے، یہ پارلیمان ہے کوئی کنٹینر نہیں، کون حکومت کو سمجھائے گا کہ معیشت چندے سے نہیں چلتی، سیاست گالی سے نہیں اور ملک جادو سے نہیں چلتا۔


گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) نے رکن ڈاکٹر عباد اللہ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا خیبرپختونخوا کے اساتذہ 15 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں، نیب (ن) لیگ احتساب بیورو بن چکی ہے۔
ڈاکٹر عباداللہ نے کہا بھینسوں کی فروخت کے اشتہار پر35 لاکھ لگائے جبکہ ملے 23 لاکھ، اس موقع پر حکومتی اراکین نے شور مچایا تو ڈاکٹر عباداللہ نے کہا گزارا کر لیں اپنی باری پر بول لیں، میں اکیلا (ن) لیگ کے ٹکٹ پر اکیلا پختون منتخب ہو کے آیا ہوں، جو نظر آتے تھے انہیں بھی ہرایا اور جو نظر نہیں آتے تھے انہیں بھی ہرایا۔
ایوان میں گرما گرمی بڑھنے پر لیگی ایم این اے کا مائیک بند کردیا گیا جس پر (ن) لیگ کے اراکین نے احتجاج کرنا شروع کردیا،مائیک بند کیے جانے پر اپوزیشن واک آﺅٹ کرگئی ۔

اپنے کرتوتوں کو بھی دیکھ لیں: پرویز خٹک
اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر آپ شور کریں گے تو ہم بھی آپ کو بات نہیں کرنے دیں گے، اپنے کرتوتوں کو بھی دیکھ لیں،رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے اپنی باری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کا ڈھول بجانے والے پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دین کو تیار نہیں، مراد سعید نے کہا کہ سمت کی درستگی پوچھنے والے بتائیں پی آئی اے کا طیارہ ہمارے دور میں چوری ہوا اور کیا منی لانڈرنگ ہمارے دور میں شروع ہوئی۔