ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس:تحقیقات کا حکم



اسلام آباد( 24نیوز ) ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) پاکپتن کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں میں ہوئی،کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ عمران کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کی بیٹی مبشرہ مانیکا بھی عدالت عظمیٰ میں موجود ہیں۔

اس سے قبل جمعہ کو عدالت کے حکم پر آئی جی پنجاب، آر پی او اور سابق ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل پیش ہوئے تھے،دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ڈی پی او کو ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا اور رات ایک بجے کیوں تبادلہ کیا گیا؟

خاور مانیکا نے کہا کہ سازش کو خارج از امکان نہیں کیا جاسکتا،وہ کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی بیٹی سے بدتمیزی سے معذرت خواہ ہوں،وہ ہماری بیٹی بھی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مداخلت کرنے پر کرنل طارق سے پوچھا کہ آپ کون ہوتے ہیں ؟تو اس نے بتایا میں رضوان گوندل کا دوست ہوں،ہم اکٹھے ٹریننگ کرتے کرواتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کے ادارے سے پتہ کراﺅں گا،سب جھوٹ بول رہے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب جمیل گجر کے معاملے میں انکوائری کریں اور رپورٹ ایک ہفتہ میں جمع کرائی جائے۔عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی جواب طلب کرلیا،مانیکا خاندان کے ساتھ بدتمیزی کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سابق ڈی پی او رضوان گوندل نے وزیراعلیٰ ہاوس میں طلبی، وزیراعلیٰ کی جانب سے احسن جمیل کے بطور بھائی تعارف کرانے اور بیرون ملک سے کرنل طارق کا پیغام موصول ہونے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق عدالتی فیصلے پڑھ کر آنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے والے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کا ٹرانسفر کر دیا گیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی،رپورٹ کے مطابق پولیس نے جمعرات 23 اگست کو پاکپتن میں خاور مانیکا کو ناکے پر رکنے کا اشارہ کیا مگر وہ نہ رکے، لیکن جب پولیس نے ان کی کار کو روکا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی۔

واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) اور ڈی پی او رضوان گوندل کو جمعہ 24 اگست کو طلب کیا اور ڈی پی او رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنےکا حکم دیا گیا، تاہم رضوان گوندل نے یہ کہہ کر معافی مانگنے سے انکار کردیا کہ اس میں پولیس کا کوئی قصور نہیں،جس کے بعد ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔