طا لبہ کا استاد اور وائس چانسلرپرہراساں کرنے کا الزام

04:35 PM, 3 Sep, 2018

نوابشاہ (24 نیوز) شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں بھی طالبات محفوظ نہیں رہیں,استاد ہی ہراساں کرنے لگے۔ شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں انگلش ڈپارٹمنٹ کے فائنل ایئرکی طالبہ فرزانہ جمالی استاد اور وائس چانسلر کے مبینہ ہراساں کرنے، دھمکیاں و والد پر مقدمہ درج ہونے کے خلاف پھٹ پڑی اور پریس کانفرنس کرڈالی۔
تفصیلات کے مطابق سکرنڈ کے قریب گاؤں وسایو جمالی کی رہائشی شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے انگلش ڈپارٹمنٹ فائنل ایئر کی طالبہ فرزانہ جمالی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بےنظیرآباد کی طالب علم ہوں۔ فرزانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انگلش ڈپارٹمنٹ کے چئیرمین عامرخٹک مجھے گذشتہ 6 ماہ سے دوستی کرنے کے بہانے ہراساں کر رہے ہیں۔ جب میں نےان کی بات ماننے سے انکار کر دیا تو مجھے فیل کرنے اور سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی تھی۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارشد سلیم کو شکایت کی تو ارشد سلیم سے میرے والد اعجاز جمالی اور میں نے ملاقات کرکے سارے معاملے سے آگاہ کیا، جس پر وائس چانسلر ارشد سلیم نے بھی دھمکیاں دی اور خاموش رہنے کا کہا جب میرے والد نے انھیں کہا کے ہم چپ نہیں بیٹھیں گے تو وائس چانسلر نے میرے والد کو اسی وقت گرفتار کروا کے مقدمہ درج کروایا اورجیل بھیج دیا ہے۔
طالبہ فرزانہ جمالی کا مزید کہنا تھا کے یونیورسٹی کے اندر لڑکیوں اور دیگر خواتین کیلئے ماحول سازگار نہیں جس کی وجہ سے اکثر طالبات خاموش ہو جاتی ہیں، طالبہ فرزانہ جمالی نے گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ارشد سلیم اورعامر خٹک کے خلاف کاروائی کی جائے اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے، دوسری جانب میرا مستقبل تباہ ہو جائے گا جس کے ذمہ دار یونیورسٹی کے وائس چانسلر ارشد سلیم اور انگلش ڈپارٹمنٹ کے چئیرمین عامر خٹک ہونگے۔

مزیدخبریں