بڑا فراڈ، حکومت اور بڑے صنعتکاروں نے 456 ارب روپے آپس میں بانٹ لئے

بڑا فراڈ، حکومت اور بڑے صنعتکاروں نے 456 ارب روپے آپس میں بانٹ لئے


اسلام آباد(24نیوز) کسانوں کے ساتھ بڑے فراڈ کا انکشاف۔  گیس انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر ٹیکس کے 456 ارب روپے حکومت اور بڑے صنعتکاروں نے بانٹ لئے۔  حکومت نے آدھے خود رکھ لئے اور 228 ارب بڑے تاجروں کو دےدیئے۔

غریب کسان کا پیسہ کیسے صنعت کار کی جیب میں چلا گیا؟ کئی برس تک کسانوں سے گیس انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر ٹیکس لیا جا تا رہا ۔ یہ پیسے صنعتکار کے کیسے ہو گئے؟ معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈیڈی کہتے ہیں کہ گیس انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر 456 ارب روپے اکٹھے کئے گئے۔ جو عدالت سے حکم امتناعی کے باعث خزانے میں جمع نہ ہوئے۔ حکومت نے پچاس فیصد پیسے خود رکھ لئے اورپچاس فیصد صنعتکاروں کو دیدیئے۔ 

معروف تجزیہ کار رؤف کلاسرا کاکہنا ہےکہ عمران خان تو کہتےتھے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کوٹیکس کےپیسے معاف نہیں کروں گا۔ اب بتائیں یہ کس کے باپ کا پیسہ ہے؟یہ میرےماں باپ کا پیسہ ہے۔ رؤف کلاسرا اپنے پروگرام میں بولےکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جواربوں روپے معاف کئے گئے وہ دراصل میرے کسان خاندان اور دوسرےلاکھوں کسانوں کا پیسہ تھا۔

رؤف کلاسرا نے یاددہانی کرائی کہ اسد عمر نے خود کہاتھا کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ فی بوری 400 روپےٹیکس ہے۔اب حکومت نے کہہ دیا ہے کہ یہ فرضی ٹیکس تھا۔ اربوں روپے کی معافی میں صدرمملکت اور کابینہ بھی شامل ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔