جج ویڈیو سکینڈل:3ملزم پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

جج ویڈیو سکینڈل:3ملزم پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے


اسلام آباد(24 نیوز)سول جج شائستہ کنڈی نے جج وڈیو کیس میں گرفتار تین ملزمان ناصر جنجوعہ ، مہر غلام جیلانی اور خرم یوسف کو تفتیش کے لیے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے ۔ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ روز میں اپنی تفتیش مکمل کر کے ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کریں۔

ایف آئی اے نے انسداد الیکٹرانک کرائم کی عدالت سے ضمانت مسترد ہونے پر جج وڈیو کیس میں گرفتار کیے گئے تین ملزمان ناصر جنجوعہ ، مہر غلام جیلانی اور خرم یوسف کو جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کے روبرو پیش کیا اور تفتیش کے لیے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر مقدمہ میں ایک ناقابل ضمانت دفعہ بھی شامل ہے، ملزمان سے تفتیش اور ریکوری کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ جس پر جج شائستہ کنڈی نے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر اگر پریشر ڈالنے اور رشوت کی آفر کا الزام ہے تو وہ زبانی ہوا ہو گا، اس پر کیا برآمدگی کرنی ہے ۔

وکیل صفائی راجہ رضوان عباسی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم ناصر جنجوعہ پر لگایا گیا الزام کمزور ہے اس پر ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا، میرے موکل کا جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے سے کوئی تعلق نہیں، مریم نواز نے بھی دوران تفتیش بتایا کہ ویڈیو ناصر بٹ نے بنائی تھی، جج نے ریمارکس دیے کہ اگر ایف آئی اے تفتیش کر لے تو اس میں کیا حرج ہے۔

بعد ازاں وکیل راجہ رضوان عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی اے کو ان کی مرضی کے مطابق پورے پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیں لیکن یہ ہدایت دیں کہ وہ تفتیش مکمل کر سکیں ۔ عدالت نے پانچ روز کا ریمانڈ دیتے ہوئے ملزمان کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer