قائدعوام شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی 39ویں برسی


24نیوز: قائدعوام شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی 39ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ جیالوں کے قافلے گڑھی خدابخش پہنچنا شروع ہوگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ اور قائدحزب اختلاف سینیٹ شیری رحمان نے شہدا کے مزارپرحاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

تفصیلات کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے فلسفے کی بنیاد رکھی جو ان کی شہادت کے بعد بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ ملک میں طویل عرصے سے جاری آمریت کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں بھٹو نے جمہوریت کا دیا جلایا اور پھر بھٹو آسمان سیاست پرآفتاب جمہوریت بن کر چمکے ۔

ذوالفقار علی بھٹو پانچ جنوری انیس سو اٹھائیس کو گڑھی خدا بخش میں پیداہوئے۔ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے عملی سیاست کا آغاز انیس سو ستاون میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی سے کیا،،انیس باسٹھ بھٹو کے قومی عروج کا سال تھا جب انہیں پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا گیا انیس سو چھیاسٹھ میں انہوں نے وزارت خارجہ سے استعفیٰ دے دیا۔

تیس نومبر انیس سو سڑؑسٹھ میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ایوب مخالف سیاست شروع کی،،اور ایسے جلسے کیئے کہ مخالفین دنگ رہ گئے۔

سات دسمبر انیس سو ستر کے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت بن کر ابھری 20 دسمبر انیس سو اکہتر سے تیرہ اگست انیس سو تہتر تک بھٹو صدر پاکستان کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے 14 اگست انیس سو تہتر سے 5 جولائی انیس سوستتر تک وہ وزیراعظم پاکستان رہے۔ تہتر کا متفقہ آئین، ایٹمی پروگرام کا آغاز، اسلامی سربراہی کانفرنس ، اوردیگر کارنامے ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے ہی منسوب ہیں۔ ایک سازش کے تحت عوام کے پسندیدہ رہنما کوپھانسی دیکر شہید کردیا گیا۔ مگر وہی انداز خون کے رستے خون میں ڈھل گیا ہے۔ رہنما بہت ہوئے۔ مگر کوئی ذوالفقار علی بھٹو جیسا قائدِ عوام نہ ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک تاریخ ساز اور عہد آفریں شخصیت تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو نیا آئین دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو مدبرسیاستدان تھے۔ ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے انھوں نے بھاری صنعتوں، بنکوں، انشورنس کمپنیوں اورپرائیویٹ تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کرسرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد کیا۔

قائدعوام نے زرعی اصلاحات، سستی ٹرانسپورٹ، دیہی مراکز صحت کا قیام، علاج کی مفت سہولیات اور پاکستانیوں کو قومی شناختی کارڈ دیا۔

اقوام متحدہ میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا کوئی اور لیڈر نہیں کرسکا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات کو محسوس کیا کہ پاکستان کاایٹمی صلاحیت حاصل کرنا خطے میں طاقت کے توازن کے لئے لازمی ہے۔ اس سوچ کے تحت ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو دنیا کے 77 ترقی پزیر ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مشترکہ مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرکے مسلم امہ کے اتحاد کے لئےگراں قدر فیصلے کروائے۔ جس کے سبب بھٹو صاحب مغربی طاقتوں کے لئے ایک خطرہ بن کر ابھرے۔ ذوالفقار علی بھٹونے اپنے دورحکومت میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا بلکہ ان کی تبلیغ پربھی پابندی عائد کی۔