روزانہ کتنے بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں ، چشم کشا حقائق سامنے آگئے

روزانہ کتنے بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں ، چشم کشا حقائق سامنے آگئے


اسلام آباد (24 نیوز) پاکستان میں سال 2017 کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 3445 واقعات پیش آئے۔ ملک میں روزانہ 9 سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔  پچھلے سال کی نسبت اس سال اس طرح کے واقعات میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

24 نیوز کے مطابق غیر سرکاری تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جنوری تا دسمبر 2017 میں بچوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیے جانے کے 109 واقعات رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:جڑانوالہ کی 7 سالہ بچی مبشرہ کے قتل، زیادتی کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے لیا 

 رپورٹ کے مطابق اغوا کے 1039 واقعات، زیادتی کے 467، بدفعلی کے 366، زیادتی کی کوشش کے 206 ، اجتماعی بدفعلی کے 180 اور اجتماعی زیادتی کے 158 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پچھلے سال کی نسبت اس سال اس طرح کے واقعات میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سال 2017 میں پچھلے سال کی طرح لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی شرح لڑکوں کی نسبت ذیادہ رہی اعداد و شمار کے مطابق 2077 لڑکیاں اور 1368 لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 2240 بچوں کے ساتھ جنسی تشدد میں کل 5284 افراد ملوث پائے گے۔

ضرور پڑھیں: انسان نما گدھ نےمعصوم بچی نوچ ڈالی

اعداد و شمار کےمطابق 11-15 سال کے 961 بچے اور 6-10 سال تک عمر کے 640 بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے ، سال 2017 میں 63 فیصد پنجاب سے، 27 فیصد سندھ ، 4 فیصد بلوچستان، 3 فیصد اسلام آباد، 2 فیصد خیبر پختونخواہ سے جبکہ 12 واقعات آذاد کشمیر اور 3 واقعات گلگت بلتستان سے سامنے آئے۔

کل 3445 واقعات میں سے 1746 صرف بچوں سے ذیادتی کے رپورٹ ہوئے۔ جس میں 59 فیصد لڑکیوں اور 41 فیصد لڑکوں کے ساتھ پیش آئے پچھلے سال 2016 میں 7 لڑکیوں کو اغوا کے بعد جنسی زیادتی اور قتل کر دیا گیا۔

پڑھنا نہ بھولیں: جی سی یونیورسٹی کی طالبہ سے زیادتی کے بعد قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی

 جبکہ سال 2017 میں اس طرح کے 15 واقعات سامنے آئے سال 2017 میں بچوں کی کم عمری شادی کے کل 143 واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں 89 فیصد لڑکیوں اور 11 فیصد لڑکوں کی کم عمری میں شادی کی گئی۔