واجد ضیا، شریف خاندان کے وکیل میں گرما گرمی، جرح چھٹے روز بھی مکمل نہ ہو سکی


اسلام آباد (24 نیوز) احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی۔ واجد ضیاء پر چھٹے روز بھی جرح مکمل نہ ہو سکی۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی واجد ضیاء کہتے ہیں نواز شریف کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں عہدے، تنخواہ، رہائش، الاونس، ٹرانسپورٹ سے متعلق ترامیم کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق جافزا جبل علی فری زون اتھارٹی سے جو چیزیں موصول ہوئیں وہ ساتھ منسلک ہیں۔ نواز شریف کی ملازمت کا کنٹریکٹ دو سال کے لیے تھا۔

 واجد ضیاء نے والیم ٹین کا سات ایم ایل اے سے متعلقہ حصہ عدالت میں پیش کر دیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں خواجہ حارث نے والیم 10 کے حوالے سے واجدضیاء کو کہا آپ مکمل والیم 10نہیں بلکہ 7 ایم ایل اے کے خطوط لے کر آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹوئٹی فورنیوز ہر بار سب سے آگے، مریم نواز نے بھی اعتراف کر لیا
 
واجدضیاء نے کہا جی 7 ایم ایل اے کے خطوط لایا ہوں۔ خواجہ حارث نے عدالت میں کہاآرڈر میں واضح کردیں کہ مکمل والیم 10 پیش نہیں کیا گیا جس پر واجد ضیاء نے کہا مجھے مکمل بات کرنے دیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے مداخلت کی اور کہا کہ خواجہ حارث تین دن سے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا جب گواہ جھوٹ بولے گا تو سچ اگلوانے کیلئے سوال کرنا پڑیں گے۔

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا نواز شریف کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں عہدے، تنخواہ، رہائش، الاؤنس، ٹرانسپورٹ سے متعلق ترامیم کی گئیں۔ جو چیزیں موصول ہوئیں وہ ساتھ منسلک ہیں۔

خواجہ حارث نے پوچھا کہ نواز شریف کی ملازمت کا جومعاہدہ پیش کیا گیا 8 جولائی 2006 سے 7 جولائی 2008 تک ہے۔ کیا جے آئی ٹی کو اس ایک معاہدے کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ملا؟ جے آئی ٹی نے یہ دستاویزات حاصل کرنے کیلئے کوئی ایم ایل اے بھیجا تھا؟ واجد ضیاء نے جواب دیاجے آئی ٹی نے کوئی ایم ایل اےنہیں بھیجا۔

جے آئی ٹی ممبران عرفان منگی اور کامران خورشید خود دوبئی گئے تھے۔ خواجہ حارث نے پوچھاکوئی ایسی دستاویز پیش کی گئیں جو ثابت کرے کہ ملازمت کےمعاہدے کا تصدیق کنندہ مجاز اتھارٹی تھا؟ واجد ضیا نے کہا ایسی کسی دستاویز کی ضرورت نہیں تھی۔

 ہماری ٹیم خود شہاب سلطان سے ملی۔ شہاب سلطان کے جاری کردہ سرٹفیکیٹ کی مجاز اتھارٹی نے بھی تصدیق کی۔ عدالت نے سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی