خیبر پختونخوا میں تعلیم کے نام پر بڑا گھپلا،کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف



پشاور(24نیوز) بی آر ٹی پشاور کے بعد خیبر پختونخوا میں تعلیمی پالیسی بھی ناکام،جعلی داخلوں،ے ' اقراء فروغ تعلیم واؤچر اسکیم ' میں خورد برد کا انکشاف ہوا۔

24نیوز کے پروگرام ’’نجم سیٹھی شو‘‘ میں میزبان نجم سیٹھی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت نے 25اضلاح بنائے تھے ان میں سے 19 اضلاع میں ماڈل تعلیمی پالیسی بالکل ناکام ہوگئی،ایک رپورٹ کے مطابق 2017میں خصوصی منصوبے کے تحت 41ہزار سٹونٹس کو انرول کیا گیا جن میں سے 21ہزار جعلی ہیں جن کا سرے سے نام و نشان ہی نہیں ہے،ایک سٹوڈنٹ کے کھاتے میں 11سو روپے ماہانہ  ڈالے گئے ہیں جو ہیں ہی نہیں۔یہ بہت بڑا گھپلا ہے۔

مزید انکشافات کیلئے ویڈیو دیکھیں:

انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار کے حساب سے 2 کروڑ روپے ماہانہ گھپلا بنتا ہے،سالانہ 24 کروڑ روپے بنتے ہیں،ایک ضلع میں 90 سکول ظاہر کیے گئے جب معائنہ کیا گیا تو ان میں سے70 سکول ہی نہیں تھے۔

دوسری طرف صوبائی معائنہ ٹیم ے ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا کی 'اقرا فروغ تعلیم واؤچر اسکیم' سے متعلق اپنی رپورٹ میں خورد برد کا انکشاف کیا ہے،اس سکیم کے تحت ایسے والدین جو اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلواسکتے تھے انہیں واؤچر جاری کیے جاتے تھے جس کی بنیاد پر وہ اپنے بچوں کو کسی بھی اسکول سے مفت تعلیم دلوا سکتے تھے۔

اس سکیم کا مقصد صوبے کے پسماندہ علاقوں میں 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ دلوانا تھا،صوبائی معائنہ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق مانسہرہ میں اسکول میں داخلے کی مد میں ملنے والے فنڈز ہڑپ کر لیےگئے جب کہ 2 کروڑ 64 لاکھ روپے کے فنڈز میں سے ایک کروڑ 94 لاکھ روپے خورد برد کیےگئے ہیں۔

صوبائی معائنہ ٹیم نے کہا کہ 23 اسکولوں میں سے 6 اسکولز گھوسٹ جبکہ 21 غیر رجسٹرڈ نکلے، نجی اسکول لبڑ کوٹ مانسہرہ میں 79 بچوں کی مد میں پیسے لیے جارہے تھے،رپورٹ کے مطابق احرار میرہ میں ایک نجی اسکول کا وجود ہی نہیں تھا اس کے باوجود 3 ماہ میں 13 لاکھ روپے جاری ہوئے جب کہ جابہ میں ایک نجی اسکول میں 236 بچوں کے نام پر وصولی کی جارہی تھی۔

صوبائی معائنہ ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسپکشن ٹیم نے مانسہرہ کے 89 میں سے 23 اسکولوں میں انکوائری کی، طلبا، متعلقہ اسٹاف اور اسکولز پرنسپلز کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ، ایم ڈی ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے، ذوالفقاراحمد نے بطور ایم ڈی واؤچرز کی تصدیق نہیں کی جب کہ ڈائریکٹرمانیٹرنگ نوازخان بھی اپنی ذمےداری نبھانے میں ناکام رہے۔

معائنہ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں غفلت برتنے پر ذمے داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور محکمہ پی اینڈ ڈی، فنانس کو 'اقرا فروغ تعلیم واؤچر اسکیم' کی ذمے داری سونپنے کی سفارش کی ہے۔ 

اظہر تھراج

Senior Content Writer