سپریم کورٹ نے صاف پانی کی فراہمی کیس میں وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے صاف پانی کی فراہمی کیس میں وزیراعلیٰ سندھ کو طلب کرلیا


کراچی(24 نیوز) سپریم کورٹ نے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق کیس کے سلسلے میں مصطفیٰ کمال کو کل جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کو پرسوں طلب کر لیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کو صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی ۔

دوران سماعت درخواست گزار شہاب اوستو ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کا 80، حیدرآباد کا 85، لاڑکانہ کا 88 اور شکار پور کا 78 فیصد پینے کا پانی آلودہ ہے، سندھ کے 29 ڈسٹرکٹ میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے باعث 80 لاکھ شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہیں۔

درخواستگزار کے دلائل پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کے سندھ ہو یا پنجاب، فیکٹریوں کی آلودگی سے زندگی متاثر ہو رہی ہے ، ہوا کی آلودگی کے باعث کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔

پانی اور ہوا کی آلودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے ، ہم کسی کے لیے ضد رکھنے والے نہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا، ہم ٹھوک بجا کر ، سوچ سمجھ کر، سب کو سن کر فیصلہ دیں گے۔

عدالت نے دوران سماعت وزیراعلیٰ سندھ کو کل پیش ہونے کا حکم جاری کیا لیکن ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کل مصروف ہیں، جس پر عدالت نے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کو 6 دسمبر جب کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو کل طلب کرلیا۔

دوسری جانب شہر میں کثیر المنزلہ عمارتوں سے متعلق کیس کی سماعت پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کے کراچی میں کثیر المنزلہ عمارت بنالیتے ہیں لیکن پینے کا پانی کہاں ہے، ریاست کا کام لائنوں کے ذریعے شہریوں کو پانی دینا ہے، بلڈرز کو نہیں، ہم عوام کے جانوں کا تحفظ کریں گے کسی بلڈرز کا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کررہا ہے، کراچی کی صورتحال دیکھ کر بہت دکھ ہوا، کوئی مرغیوں کا پنجرا بھی بناتا ہے تو دانا پانی کا خیال رکھا جاتا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کردی۔