سابق وزیر اعظم نواز شریف چیف جسٹس کے روبرو پیش


اسلام آباد( 24نیوز )سپریم کور ٹ میں پاکپتن میں دربار اراضی پر دکانوں کی تعمیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی گئی ، جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف پیش ہوئے،کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کی ۔

چیف جسٹس نے سابق وزیر اعظم سے استفسار کیا کہ آپ پر 1985 میں بطور وزیراعلیٰ اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا الزام ہے تو آپ صفائی میں کیا کہیں گے،سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ تیس سال پرانی بات ہے کچھ یاد نہیں،میرے دستخط سے کوئی ایسا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تو محکمہ اوقاف نے فراڈ کیا،اگر آپ نے جاری نہیں کیا تو ہم تحقیقات کرائیں گے،نواز شریف نے جواب دیا اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیاجے آئی ٹی نہ بنا دیں؟نواز شریف نے جواب دیا جے آئی ٹی نہ بنائیں ان کا طریقہ کار ٹھیک نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے پاکپتن کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پاکپتن میں دربار اراضی کیس میں 1985 میں بطور وزیراعلیٰ ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا،نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیراعلیٰ اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا الزام ہے،گزشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کا جواب مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ وہ خود آکر وضاحت دیں۔

ویڈیو دیکھیں:

عمران خان کی نشاندہی پر ہی ہم نے ریگولرائزیشن کا حکم دیا تھا:چیف جسٹس

ادھر سپریم کورٹ میں بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ بابر اعوان کہاں ہیں؟ شاید انھوں نے التوا کی درخواست بھیجی ہے، بتایا جائے جن لوگوں نے ریگولرائزیشن کی درخواست دی ان کا کیا بنا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی کو ہٹا دیا گیا،جو حق کی بات کرے اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عمران خان ملوث ہیں اس لیے اس کیس میں تاخیر کی جارہی ہے، عمران خان کی نشاندہی پر ہی ہم نے ریگولرائزیشن کا حکم دیا تھا، تمام ریکارڈ چیک کر کے بتایا جائے کتنے لوگوں نے ریگولرائزیشن کی درخواست دی اور ان کا کیا بنا۔

ادھر سپریم کور ٹ میں پاکپتن میں دربار اراضی پر دکانوں کی تعمیر سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف بھی موجود ہیں،کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پاکپتن میں دربار اراضی کیس میں 1985 میں بطور وزیراعلیٰ ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا،نواز شریف پر 1985 میں بطور وزیراعلیٰ اوقاف کی زمین واپسی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کا الزام ہے،گزشتہ سماعت پر عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کا جواب مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ وہ خود آکر وضاحت دیں۔