مارگلہ ہلز سٹون کرشنگ کیس کی سماعت، وزیر کیڈ طلب

مارگلہ ہلز سٹون کرشنگ کیس کی سماعت، وزیر کیڈ طلب


اسلام آباد(24نیوز)سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز سٹون کرشنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کے پی کے میں اسٹون کرشنگ کیلئے بلاسٹنگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے مائیننگ ڈپارٹمنٹ سے پندرہ روز میں جواب طلب کر لیا، وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کو طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز سٹون کرشنگ ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی،دوران سماعت سپریم کورٹ نے سی ڈی اے قوانین اور ریگولیشن نہ ہونے پر وزیر کیڈ کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ انیس سو ساٹھ سے آج تک سی ڈی اے کے قوانین کیوں نہیں بنائے گئے، وزیر داخلہ ، وزیرکیڈ جو بھی متعلقہ ہے انھیں آئندہ سماعت پر بلالیں اور ہمیں جھڑک جھاڑ نہیں کرنی ،فائدہ دینے کے لئے سماعت کریں گے۔
چیف جسٹس نے کہا پانی کی قلت ہے ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا، جوڈیشل ایکٹوازم کا بالکل شوق نہیں اور فرائض میں کوتاہی پر ایکشن لینگے، اپنے اختیارات کاعلم ہے باہر نہیں جائیں گے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کے درمیان کچھ حدود کاتنازع ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد کی حکومتیں تو بھائی بھائی ہیں ،دونوں بھائی بیٹھ کر مسئلہ کو حل کریں،انکا مزید کہنا تھا افسران نظر انداز نہ کریں تو ایک انچ سرکاری زمین پر قبضہ نہیں ہوسکتا،
انیس سو ستانوے میں میں کہاتھا پاکستان کے قوانین کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ،عدالتی احکامات کولڈسٹوریج میں نہیں جانے چاہئیں،جو معاملہ اٹھائیں گے منطقی انجام تک پہنچائیں گے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ بنی گالہ دادرسی کے لئے آنے والوں نے خود غیر قانونی تعمیرات کررکھی ہیں شکایت کنندہ وکیل عدالتی معاونت کے لئے غیرقانونی تعمیرات کی تفصیلات عدالت کو فراہم کریں،عدالت نے کے پی کے میں اسٹون کرشنگ کے لئے بلاسٹنگ پر پابندی عائد کرتے ہوئے مائننگ ڈیپارٹمنٹ سے پندرہ روز میں رہورٹ طلب کر لی، عدالت نے واضع کیا کہ ذیلی عدالتوں کا حکم امتناع مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے لئے رکاوٹ نہیں بنے گا ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کرد ہے۔