ذوالفقار علی بھٹو: تعمیرِ پاکستان کا معمار

ذوالفقار علی بھٹو: تعمیرِ پاکستان کا معمار


کراچی (24 نیوز) ذوالفقارعلی بھٹو تعمیرپاکستان کے پہلے معمار تھے۔ سیاست کو عوامی مزاج اور خدمت کو حکمرانی کا شعار بنانے والے بھٹو شہادت کے بعد بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔

5جنوری 1928 کو پیدا ہونے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی مختصر زندگی میں اتنے کارنامے انجام دئیے کہ انہیں شمار کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاست میں آمد اتفاقیہ نہیں تھی۔ وہ سندھ کے معروف سیاسی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے عہد کے تمام سیاستدانوں سے ممتاز کر دیا۔

وہ پہلے وزیر پٹرولیم بنے مگر ان کی صلاحیتوں کے جوہر اس وقت سامنے آئے جب انہیں وزارت خارجہ کا قلم دان سونپا گیا۔ دنیا آج بھی ان کی سفارت کاری کی معترف ہے۔

انھوں نے ایوب خان کی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو 1967میں پیپلز پارٹی کے نام سے اپنی جماعت بنائی۔ جلد ہی یہ جماعت ملک کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو کو مغربی پاکستان کا وزیراعظم منتخب کیاگیا۔ جس کے بعد قائد عوام نے ایک شکست خوردہ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنا شروع کیا۔ بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ ان کی سفارت کاری کا نکتہ کمال تھا جس میں وہ بھارت میں قید 95ہزارفوجی وطن واپس لائے۔

ذوالفقار علی بھٹونے بے آئین ملک کو پہلی بارمتفقہ آئین دیا۔ 1973 کا آئین قائد عوام کا ایسا کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

جب انھوں نے پاکستان کے بعد مسلم امہ کو یکجا کرنے کی ٹھانی تو 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس اس کا عملی ثبوت دیا۔

قائد عوام نے پس ماندہ طبقات کی حالت سدھارنے پر سب سے زیادہ توجہ دی۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو خلیجی ممالک بھیج کر انہیں بہترین روزگار مہیا کیا گیا۔

ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ذوالفقارعلی بھٹو نے ایٹمی منصوبہ کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے آج پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی قومی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔ اسی لیے تو پاکستانی قوم نے قائداعظم کے بعد سب سے زیادہ اور والہانہ محبت قائد عوام سے کی ہے۔ جبھی تو نعرہ لگتا ہے زندہ ہے بھٹو زندہ ہے۔