سی آئی اے دشمن ممالک کیخلاف منشیات کو ہتھیار کے طور پراستعمال کرنے لگی

سی آئی اے دشمن ممالک کیخلاف منشیات کو ہتھیار کے طور پراستعمال کرنے لگی


کابل (24 نیوز) افغانستان میں امریکی فوج آنے کے بعد منشیات کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا، سی آئی اے دشمن ممالک کے خلاف منشیات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگی۔ کابل میں بھی افیون کی کاشت میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج آنے کے بعد سے 2016 تک افیون کے زیر کاشت رقبہ 5 لاکھ ایکڑ سے بھی زیادہ ہو چکا ہے جبکہ طالبان کے دور اقتدار میں 2001 میں افیون کا زیر کاشت رقبہ صرف 19 ہزار ایکڑ رہ گیا تھا۔ اب افیون کی پیداوار 185 ٹن سے بڑھ کر 7 ہزار ٹن سالانہ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دارلحکومت کابل میں بھی افیون کی کاشت میں 24 فیصد اضافہ ہوا، تاہم طالبان کے زیر کنٹرول صوبے ننگر ہار کے تین اضلاع میں افیون کی کاشت میں بہت زیادہ کمی دیکھی گئی۔

طالبان کے سخت کنٹرول کے بعد 2001 میں سپلائی کم ہونے سے مارکیٹ میں منشیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ سی آئی اے کو دشمن ممالک کے خلاف منشیات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔