تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کیس ، پولیس رپورٹ مسترد

تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کیس ، پولیس رپورٹ مسترد


لاہور (24 نیوز) لاہور کے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کیس میں سپریم کورٹ نے پولیس کی رپورٹ مسترد کردی ، عدالت نےچاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، اینٹی نارکوٹیکس ڈویژن کے انچارج اور متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹرز کو اجلاس بلا کر ایک ہفتے میں ایکشن پلان تیار کر نے کی ہدایت کر دی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہور کے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی سے متعلق کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،منشیات کی روک تھام کیلئے کچھ نہیں کیا جارہا، یہ حکومت کی ناکامی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کتنی دفعہ پنجاب کابینہ نے اس مسئلے پر بات کی،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ چیف سیکرٹری منشیات کے استعمال پر میٹنگز کر رہے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن بولے میٹنگز سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دہشت گردی پر نیشنل ایکشن پلان بنایا ہے تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمہ کے لیے بھی ایکشن پلان بنانے اور اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ صوبائی وزراء انسداد منشیات کے ماہر نہیں، دہشتگردی کی طرح منشیات کا دھندہ بھی اتنا ہی خطرناک ہے جو ہماری نوجوان نسل کو ختم کررہاہے۔عدالت نے پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے چاروں چیف سیکریٹریز ، اینٹی نارکوٹیکس ڈویژن کے انچارج اور متعلقہ وزارتوں کے سیکریٹریز کو اجلاس بلاکر ایک ہفتے میں ایکشن پلان تیار کر نے کی ہدایت کر دی۔