سائبریا کے پرندے سردی سے بچنے کیلئے پاکستان آگئے

سائبریا کے پرندے سردی سے بچنے کیلئے پاکستان آگئے


چوہڑ جمالی(صدیق میمن) سائبریا کے پرندے خون جما دینے والی سردی سے بچنے کیلئے پاکستانی علاقوں میں آئے لیکن یہاں کے شکاری ان کی جان کے دشمن بن گئے، محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار بھی ان مہمان پرندوں کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار ہیں.

سائبیریا میں ہر شے جمنے لگی تو وہاں کے پرندوں کے ہمیشہ کی طرح پاکستان جیسے گرم آب و ہوا والے ملکوں کا رخ کرلیا۔سائبیرین پرندوں کی آمد سے جہاں فضائیں دل لبھا لینے والی چہچہاہٹ سے گونج رہی ہیں وہیں پاکستان میں جھیلوں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

سندھ کے ساحلی علاقوں شاہ بندر کھاروچھان اور چھوٹی بڑی جھیلوں پر پردیسی پرندوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں، ایسے میں مقامی شکاری ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اس کام میں انہیں محکمہ وائلڈ لائف کے عملے کا آشیرباد بھی حاصل ہے۔شکاری ان سائبیرین کو زندہ یا مردہ دونوں صورتحال میں پکڑ رہے ہیں، نایاب ڈگھوش پرندہ 1200 روپے،،نیرگی 500 روپے،  چیخلہ 250 روپے،، کھیڑانٹی 120 روپے اور آڑی کو 150روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

سندھ میں سائبیریا سے پہلے 220اقسام کے 6 لاکھ سے زائد پرندے آتے تھے  تاہم خشک سالی کے باعث اب یہ تعداد کم ہوگئی ہے اور رہی سہی کسر شکاری پوری کررہے ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔