نو ماہ ،109سماعتیں،ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ پرسوں سنایا جائے گا


لندن( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ جمعہ کو سنایا جائے گا ،جبکہ نواز شریف نے وطن واپسی کا فیصلہ وکلا سے مشاورت سے مشروط کردیا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کا لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انتخابات 2018 میں دھاندلی کا ارتقاب ہوچکا ہے، الیکشن میں من پسند فیصلے سے ملک کو نقصان ہوگا، گزشتہ سال جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ سب نے دیکھا ہے، بغیر جواز کوئی بات کرنا میری فطرت میں نہیں، آج بھی اسی جگہ کھڑا ہوں جہاں پہلے روز کھڑا تھا، صاف اور حقائق پر بات کرتا ہوں اور ہونی بھی چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  مریم نواز کی پاکستانی سیاست پر تنقید
انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی کئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں، من پسند نتائج کے حصول سے بہتری نہیں آئے گی، ووٹ کو عزت دو کی بات پر آج بھی قائم ہوں۔
یاد رہے احتساب عدالت نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدرکے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کرلیا،احتساب عدالت کا کہنا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 6 جولائی کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے تقریباً ساڑھے 9 ماہ کیس کی سماعت کی، نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت نے تقریباً ساڑھے 9 ماہ کیس کی سماعت کی، ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف سمیت ملزمان سے 127سوالات پوچھے گئے، ملزمان کی طرف سے کوئی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، لندن سے 2 گواہوں کے بیانات ویڈیو لنک پر ریکارڈ کیے گئے جبکہ نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلے اور راجا اختر کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا گیا، ایون فیلڈ ریفرنس کی 107 سماعتیں ہوئیں، نواز شریف اور مریم نواز 78 مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے۔
واضح رہے کہ 29 جون کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایڈووکیٹ امجد پرویز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 2 جولائی کو ہر حالت میں حتمی دلائل ختم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گزشتہ روز دلائل مکمل نہ ہونے پر ریفرنس کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی،فیصلہ کے وقت ملزموں کا کمرہ عدالت میں ہونا ضروری ہوتا ہے اب ملزم اس دن پیش ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔