الن فقیر کو بچھڑے 19 برس بیت گئے

الن فقیر کو بچھڑے 19 برس بیت گئے


کراچی(24 نیوز)صوفیانہ کلام میں جداگانہ انداز رکھنے والے لوک فنکار الن فقیر کو صدارتی تمغہ حُسن کارکردگی سے بھی نواز ا گیا تھا۔ 

1932 کواندرون سندھ کے گاؤں آمڑی میں پیدا ہونے والے الن فقیر کا تعلق منگراچی قبیلے سے تھا، سندھ کے روایتی لباس میں ملبوس الن فقیر نے ،اپنی مخصوص گائیگی کے ذریعے صوفیانہ کلا م کو جس انداز میں پیش کیا ،وہ صوفیانہ شاعری سے ان کی محبت کا واضح ثبوت ہے۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کےمزار پر عقیدت مندوں کو صوفیانہ کلام سنانے والے الن فقیر کی شہرت ریڈیو حیدرابادسے شروع ہو کرملک بھر میں پھیل گئی۔

الن فقیر نے معروف گلوکارمحمد علی شہکی کے ساتھ بھی گانا گایا، اس گانے نے الن فقیر کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا

حکومت نے الن فقیر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں انیس سو اسی میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا، کراچی کے مقامی اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد 4 جولائی سن 2000 کو جہان فانی سے کوچ کرگئے تھے ،صوفیانہ اور لوک موسیقی کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Malik Sultan Awan

Content Writer