عدالت عظمیٰ کا عوامی مقامات سے بل بورڈز اتارنے کا حکم

عدالت عظمیٰ کا عوامی مقامات سے بل بورڈز اتارنے کا حکم


سپریم کورٹ میں بل بورڈز اتارنے سے متعلق عملدرآمد کیس میں عدالت نے پورے ملک سے عوامی مقامات سے بل بورڈز اور انکے سٹرکچرز اتارنے کا حکم دے دیا ۔

سپریم کورٹ میں بل بورڈز اتارنے سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ابھی تک کچا پکا کام ہوا ہے, بل بورڈز تو اتار دیے گئے مگر ان کے سٹرکچر ابھی تک موجود ہیں,سٹرکچر اتارنے کیلئے کیا کوئی آسمان سے اترے گا۔

وکیل کنٹونمنٹ بورڈ  نے کہا کہ سٹرکچر اتارنا ایڈورٹائزرز کا کام ہے, ہم نے ایڈورٹائزرز کو نوٹس جاری کیے تاحال سٹرکچر نہیں اتارے گئے, ہمارے پاس سٹرکچر اتارنے کیلئے فنڈز نہیں 10 لاکھ روپے خرچ ہونگے۔

جسٹس عظمت سعید  نے کہا کہ کل کو پولیس بھی یہی کہے گی کہ پیسے نہیں ملزم کو نہیں پکڑتے,سٹرکچر اتروانا کنٹونمنٹ کی ذمہ داری ہے,اگر ایڈورٹائزرز سٹرکچر نہیں اتارے تو کنٹونمنٹ والے ان کی نیلامی کر دیں۔وکیل کنٹونمنٹ  نے کہا کہ عدالتی حکم پر ہم سٹرکچرز اتروا دیں گے۔

عدالت نے حکم دیا کہ پورے ملک سے عوامی مقامات سے بل بورڈز اور انکے سٹرکچرز اتارے جائیں,وفاق سمیت صوبے بل بورڈز اور انکے سٹرکچرز اتارنے سے متعلق 6 ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائیں۔ کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی گئی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔