جب ہم گئے سب ٹھیک تھا:نواز شریف


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چھوڑ کر گئے ہم اپنے دور کے ہی ذمہ دار ہیں۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنا کام بہت احسن طریقے سے کیا اور سب بہتر چھوڑ کرگئے ہیں، شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے آخری دنوں میں بہت سارے منصوبوں کا افتتاح کیا، وفاق اور پنجاب میں 39 میگا منصوبے شروع کئے، نیلم، جہلم اور تربیلا 4 کو مکمل کیا، گوادر کوئٹہ سڑک بنائی، برہان سے ڈی آئی خان تک سڑک زیر تعمیر ہے، یونیورسٹیاں اور ہسپتال الگ ہیں، کیا یہ کام کسی ماضی کی حکومت نے کیے اور کیا کسی نے موٹر ویز بنائی، کون تھا جو ملک کو اندھیروں میں ڈبو گیا اور کون تھا جو روشنیاں واپس لایا، خواہش تھی کہ وزیراعظم لاہور، ملتان اور سکھر موٹر وے کا افتتاح کرتے مگر بنانے والوں نے تاخیر کردی، یہ منصوبے مئی 2018 میں مکمل ہونا تھے، میں ہوتا تو شاید تاخیر نہ ہوتی۔

مجھے کتے نے نہیں کاٹا تھا جو ملک کے اربوں روپے بچائے:شہباز شریف
نواز شریف نے کہا کہ حیدرآباد کراچی موٹروے بن چکی ہے، کچھی کینال کا تاریخی منصوبہ مکمل کیا، لواری ٹنل دیکھ لیں جس کی وجہ سے چار گھنٹے سفر کم ہوا ہے، لواری ٹنل پہلے سال میں 6 ماہ بند رہتی تھی اور اب سارا سال کھلی رہتی ہے، ہم تو نیب کورٹ میں پھنسے ہیں ورنہ آپ کو لے کر جاتا لواری ٹنل کی سیر کراتا۔ نواز شریف نے کہا کہ چترال والے پہلے آہی نہیں سکتے تھے لیکن اب وہاں بجلی بھی آگئی اور پاور پلانٹ بھی لگ گیا۔

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت


سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی احتساب عدالت میں سماعت جاری ہے۔،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سماعت کر رہے ہیں جب کہ ریفرنس میں نامزد ملزم نواز شریف کمرہ عدالت میں موجود ہیں،سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث آج مسلسل تیسری سماعت پر جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح کر رہے ہیں،اکتیس مئی کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر دوران جرح واجد ضیاءکا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کو ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کا شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر ظاہر کرے یا وہ مالی معاملات دیکھتے ہوں یا وہ العزیزیہ کے لیے بینکوں یا مالی اداروں سے ڈیل کرتے ہوں،واجد ضیاء کا کہنا تھا کہ دستاویزی ثبوت نہیں جو ظاہر کرے کہ نواز شریف نے العزیزیہ کی کسی دستاویز پر کبھی دستخط کیے ہوں۔
یاد رہے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔