سکیورٹی فورسزکوسیاسی معاملات میں نہیں گھسیٹنا چاہیے: ترجمان پاک فوج


راولپنڈی(24 نیوز)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 2018 میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 48 افراد شہید ہوئے، ہماری امن کی خواہش کوکمزوری نہ سمجھاجائے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جرنل آصف غفور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  2018 میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 48 افراد شہید ہوئے۔ بھارت نے 13 سال میں 2 ہزار سے زئد بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ زیادہ تر عام شہری گولیوں کا نشانہ بنے۔

انھوں نے کہا ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان سیزفائرمعاہدے کی پاسداری چاہتاہے۔ افغانستان میں امن چاہتے ہیں،بیرونی قوتیں افغانستان کوموجودہ حالات میں چھوڑ کرنہ جائیں،بھارتی دہشت گردی کاثبوت کلبھوشن کی صورت میں موجودہے۔

ترجمان پاکستان فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب سے افغانستان کے ساتھ جیو فینسنگ شروع کی تو سرحد پار فائرنگ سے 7 سپاہی شہید اور 39 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ضروری ہے کیونکہ ان کے جانے کے بعد پاکستان میں جو بھی دہشت گرد ہیں ان سے مقابلے میں آسانی ہو گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پچھلی دو دہائیوں میں وہ کام کیا جو کسی اور ملک نے اس طرح کے چیلنجز ہوتے ہوئے نہیں کیا، بھارت میں حال میں دوواقعات ہوئے جس کے ثبوت ہم نے مانگے ہیں،بھارت کی طرف سے ثبوت دینے سے مسلسل انکار ہورہاہے،پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے متعدد ثبوت ہیں،ہر وہ کام کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب بھی کسی بیرونی خطرے پر بات کی تو پوری لیڈرشپ نے فیصلہ کیا اور آگے چلے۔ ہم سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں امریکا کامیاب ہوکر افغانستان سےنکلے اور ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ سے خود بھی ملاقات کرچکاہوں ،آرمی چیف نے پنجاب حکام کوپی ٹی ایم کارکنوں کی گرفتاری سے روکا۔ انھوں نے کہا کہ فاٹاکے کچھ بزرگ کے پی میں انضمام کےحق میں نہیں تھے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا کہ آئی ایس پی آرنے کبھی میڈیاکوہدایات نہیں دیں،سوشل میڈیاکوملکی مفادمیں مانیٹرکررہے ہیں۔سوشل میڈیاہمارے لیے خطرہ نہیں ہے،سوشل میڈیاسیل آپس میں کھیلتے رہتے ہیں،سوشل میڈیاکے استعمال میں بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔

اسددرانی سے متعلق انھوں نے کہا کہ بہت سے واقعات ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے ہیں،اسددرانی کتاب پر مطمئن نہیں کرسکے،پاک فوج نے آج تک سپاہی سے جنرل تک کسی کوغلطی پرمعاف نہیں کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسزکوسیاسی معاملات نہیں گھسیٹنا چاہیے،پروپیگنڈہ کیا گیا کہ حکومت مدت پوری نہیں کرے گی لیکن غلط ثابت ہوا، حکومت نے مدت پوری کی ہم سے زیادہ کسی کوخوشی نہیں ۔ 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔