میرا نام نواز شریف ہے، چھین سکتے ہو تو چھین کے دکھاؤ: نواز شریف


گجرات (24نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرا بیانیہ عوام کے دل میں اترچکا ہے اور اب فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ فیصلے غصے اور انتقام میں آ رہے ہیں اس لئے عوام 2018ءکے انتخابات میں صرف ووٹ نہیں ڈالیں بلکہ انقلاب لائیں۔

گجرات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے  سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرا بیانیہ عوام کے دل میں اترچکااور اب فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سینیٹ انتخابات سے مسلم لیگ (ن) کو یہ کہہ کر باہر کر دیا گیا کہ امیدواروں کو جاری ہونے والی ٹکٹوں پر نواز شریف کے دستخط ہیں۔ نواز شریف کے دستخط پر اعتراض کرنے والے نواز شریف کے دستخط والے بجلی کے کارخانے بھی بندکر دیں۔ فیصلوں کے ذریعے نواز شریف کو کاغذوں سے تو نکال دیا، تب مانوں اگر عوام کے دلوں سے نکال کر دکھاﺅ۔

  نواز شریف  نے کہا کہ کل سے میرا گلا خراب تھا لیکن آپ کا جذبہ دیکھ کر ٹھیک ہو گیا۔ مخالفین سے کہتا ہوں کہ کوٹلہ آ کر کارکنوں کا سیلاب اور جذبہ دیکھیں۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ قوم بیدار ہو چکی ہے، اگر کوٹلہ بیدار ہے تو پاکستان بیدار ہے اور آپ تک نواز شریف کا پیغام پہنچا ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ میرا پیغام اللہ کے فضل و کرم سے ہر پاکستانی کے دل میں پہنچ گیا ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ کوٹلہ کے عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ووٹ کی عزت کی خاطر یہ پوری جنگ لڑیں گے، ووٹ کی عزت کی خاطر انشاءاللہ یہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 70 سال سے اس ملک کو لگی ہوئی بیماری کو ختم کرنے کا لمحہ آن پہنچا ہے۔ نواز شریف کو اس لئے نہیں ہٹایا گیا کہ اس پر 100 روپے یا 200روپے، یا لاکھ یا کروڑ روپے کی کرپشن کی ہے، کوئی کرپشن کا الزام نہیں ہے اور آپ کو اس بات پر فخر ہونا چاہئے۔ نواز شریف پر الزام یہ ہے کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ کیا آپ کے دل کو یہ الزام لگتا ہے؟ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو فارغ کر دیا کہ جاﺅگھرجاﺅ۔

کروڑوں ووٹرز کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور صرف پانچ بندوں نے عوام کے ووٹوں کو پاﺅں تلے روند دیا ہے۔ ان کے دل میں آپ کے ووٹ کی یہ اوقات، عزت اور حرمت ہے۔ کیا یہ سکہ شاہی آپ کو منظور ہے؟ اگر آپ یہ لگتا کہ نواز شریف نے فلاں ٹھیکے میں پیسے کھائے، فلاں جگہ کرپشن کی ہے، خوردبرد کی ہے، قومی خزانہ لوٹا ہے یا پاکستانی عوام کا مال کھایا ہے تو میں بالکل مجرم کے کٹہرے میں پیش ہونے کو تیار ہوں۔ لیکن یہ الزام کہ نواز شریف نے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، چلو فارغ، بھاگو یہاں سے گھر جاﺅ، آپ کے منتخب وزیراعظم کیساتھ یہ سلوک ہوا ہے۔

بتائیں کہ یہ ہتک اور بے عزتی آپ کو منظور ہے؟ اب کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو بطور وزیراعظم تو نکال دیا ہے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے بھی نکال دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کاغذوں سے تو نکال دیا ہے، میں تب مانوں جب کوٹلہ والوں کے دلوں سے نکالو۔ تب مانوں گا جب کوٹلہ والوں اور پاکستانی عوام کے دلوں سے نواز شریف کو نکالو، یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا، یہ فیصلے بہت پہلے بھی آئے ہیں اور آج بھی آئے ہیں، 70سالوں میں اس ملک میں کچھ بھی بدلا نہیں لیکن مجھے یہ بتاﺅ کیا ہمارے اگلے ستر سال بھی پچھلے ستر سالوں جیسے ہونے چاہئیں؟ یا نہیں ہونے چاہئیں؟

نواز شریف کے خلاف اب ایک اور کیس لگنے والا ہے کہ نواز شریف کو الیکشن سے باہر کر دیا جائے، او بھائی ابھی پیٹ نہیں بھرا آپ کا، میں نے تو کہہ دیا تھا کہ میرا نام نواز شریف ہے، سب کچھ چھین رہے ہو تو میرا نام بھی چھین کر دکھاﺅ۔ کل سینیٹ کے الیکشن ہوئے، نواز شریف کو نکال دیا اور پھر سینیٹ کے الیکشن سے بھی مسلم لیگ (ن) کو نکال دیا۔

یہ فیصلہ سنایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والا کوئی بندہ سینیٹ کا الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ انہوں نے فیصلہ کر دیا لیکن پارلیمینٹ نے اور صوبائی اسمبلیوں نے اس فیصلے کو مسترد کر کے مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کو کامیاب کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ چھین کر کیا ملا؟ اعتراض یہ لگا کہ ان ٹکٹوں پر نواز شریف کے دستخط موجود ہیں۔ او بھائی یہ بھی کوئی الزام ہے؟ کہ نواز شریف کے دستخط ہے ان ٹکٹوں پر، لہٰذا یہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ بھائی فیصلہ آج دے رہے ہو، نواز شریف کے امیدوار کو اللہ کے فضل و کرم سے ایک ہفتہ پہلے میدان میں آ چکے تھے۔

نواز شریف کی مہر اور دستخط تو ایٹمی پروگرام کے اعلان پر بھی لگے ہوئے ہیں۔ کیا ایٹمی پروگرام کو بھی ختم کر دیا جائے، پاکستان کے بجلی گھروں پر بھی نواز شریف کے دستخط ہیں، انہیں بھی بند کر دو، موٹرویز کو بھی ادھیڑ دو کیونکہ ان پر بھی نواز شریف کے دستخط ہیں۔ پاکستان کے ہوائی اڈے بھی ختم کر دو، ان کے حکم پر بھی نواز شریف کا حکم ہے۔ ذرا کوئی یہ بھی دیکھ لے کہ کون کون سے جج نواز شریف کے دستخطوں سے آج اعلیٰ عدالتوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں، کیا ان کو بھی ختم کرنا ہے؟

پاکستان کے اندر لوڈشیڈنگ ختم کرنے والے وزیراعظم کو نکال دیا، ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم کو نکال دیا، کراچی میں امن قائم کرنے والے وزیراعظم کو نکال دیا، موٹرویز بنانے والے وزیراعظم کو نکال دیا، سی پی ملک میں لانے والے وزیراعظم کو نکال دیا، کھیتوں سے منڈیوں تک سڑکیں بنانے والے کو نکال دیا، گیس لانے والے کو نکال دیا، ہیلتھ کارڈ دینے والے کو نکال دیا اور پاکستان کے ندر خنجراب سے گوادر تک موٹرویز بنانے والے کو نکال دیا۔ کھاد سستی کرنے والے وزیراعظم کو نکال دیا، جب 2013ءمیں حکومت آئی تو کھاد کا ریٹ 2300 روپے تھا لیکن آج 1200 روپے میں مل رہی ہے۔ کاشتکاروں کے ٹیوب ویل سستے چلتے ہیں، بجلی سستی ہو رہی ہے، اس لئے نواز شرفی کو نکال دیا۔

ابھی نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ اگلی حکومت مسلم لیگ (ن) کی آئے گی اور پھر ان غریبوں مکان دئیے جائیں گے جن کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں ہے جبکہ انصاف عوام کے دروازے کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا۔ نواز شریف جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو پھر پورا کرتا ہے۔ میں آج یہ بات کہہ رہا ہوں تو میں پورا کر کے دکھاﺅں گا۔

 انھوں نے کہا کہ یہ جتنے بھی فیصلے آ رہے انتقام اور غصے میں آ رہے ہیں۔ سارا غصہ نواز شریف پر نکالا جا رہا ہے اور سارا انتقام نواز شریف سے لیا جا رہا ہے۔ اگر آپ کو یہ سب کچھ منظور نہیں ہے تو پھر آپ نے 2018ءمیں مسلم لیگ (ن) کو صرف ووٹ نہیں ڈالنا بلکہ ایک انقلاب لانا ہے، 2018ءکا الیکشن ایک ریفرنڈم ہونا چاہئے۔ صرف ووٹ نہیں ڈالنا بلکہ ہم نے اس نظام کو ختم کرنا ہے جس نے آپ کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

اس نظام کو ختم کرنا ہے جس نے پاکستان کے عوام کا خون چوس لیا ہے اور غریبوں کی قسمت کیساتھ کھیلا ہے۔ آپ نے ووٹ کو عزت دلوانی ہے۔ آپ نے میرا ساتھ دینا ہے اور میں نے آپ کا ساتھ دینا ہے جبکہ اللہ نے ہمارا ساتھ دینا ہے۔ میں آپ کیساتھ غلط وعدہ نہیں کرتا، آپ نے بھی میرے ساتھ غلط وعدہ نہیں کرنا۔