عمران خان ایس ایس پی تشدد کیس میں بری


اسلام آباد( 24نیوز )تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان کو عدالت نے خوشخبری سنادی ہے،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران قائم کیے گئے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو بری کردیا۔
25 اپریل کو مذکورہ کیس کی گزشتہ سماعت پر عمران خان کے پیش نہ ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ 4 مئی تک کے لیے موخر کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے باؤنسرز، سیاسی مخالفین کی بڑی وکٹیں گرا دیں
آج عمران خان ذاتی حیثیت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہیں ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کردیا گیا۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں وکلا کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنماو¿ں پر 2014 کے دھرنے کے دوران 4 مقدمات قائم کیے گئے تھے، جن میں پی ٹی وی کے دفتر، پارلیمنٹ اور ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر حملے سمیت لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ شامل ہے، عمران خان ، شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین سمیت دیگر پارٹی رہنما ان کیسز میں ضمانت پر ہیں۔

خبر پڑھنا مت بھولئے:  بھارت دنیا کا سب سے۔۔۔عالمی ادارہ صحت نے طمانچہ دے مارا

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے مقدمے سے بریت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف جب اقتدار میں آئے گی تو سیاسی رہنماؤں کے خلاف قانون کے غلط استعمال کو ختم کرے گی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی قانون نہیں ہے، سندھ میں راؤ انوار ہے اور پنجاب میں عابد باکسر ہے، اس سے پہلے نیب نے کبھی حکمران جماعت کے لوگوں کو نہیں پکڑا لیکن اب نیب نے پہلی مرتبہ اقتدار میں موجود لوگوں کے خلاف ایکشن لیا ہے۔

عمران خان نے نواز شریف شریف کا شکریہ بھی ادا کر ڈالا ، کہتے ہیں میاں صاحب کا دماغی توازن ہل چکا ہے، میاں صاحب کہتے ہیں کے عمران خان کو ووٹ دینا جیسا آرمی کو ووٹ دینا ہے، شکریہ نواز شریف۔