فیس بُک کے بعد ٹوئٹر صارفین کا بھی ڈیٹا چوری ہو گیا

فیس بُک کے بعد ٹوئٹر صارفین کا بھی ڈیٹا چوری ہو گیا


24 نیوز: ٹویٹر نے تمام صارفین کو وارننگ میسیج جاری کر دیا، سوشل میڈیا ویب سائیٹ ٹویٹر کا 336 ملین صارفین کو اپنا پاسورڈ تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر نے اپنے صارفین کے نام پیغام جاری کر دیا۔ جاری پیغام میں کہا کہ پاسورڈ ہمارے اسٹاف کو بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن معلوم ہوا کہ تمام پاسورڈ کمپنی ہیڈ کوارٹر میں اوپن ہوگئے۔

واضح رہے کہ مسئلہ  کےحل کرنے کے لیےتحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابھی تک کسی پاسورڈ کا غلط استعمال دیکھنے میں نہیں ملا۔ اس کے باوجود سیفٹی کیلئے صارفین ٹویٹر پاسورڈ تبدیل کر لیں۔ جو پاسورڈ ٹویٹر پر ہے اگر ویسا ہی پاسورڈ کسی اور جگہ پر ہے تو اس کو بھی تبدیل کر لیں۔

علاوہ ازیں اس واقعہ سے قبل فیس بک کو بھی کچھ ایسا ہی دھچکا لگا تھا۔اپنے فیس بک پیغام میں مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ ڈیٹا کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا کے معاملے میں انہوں نے ٹھوکر کھائی اور انہیں 2015 میں اس کمپنی پر اس وقت اعتبار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جب کیمبرج اینالیٹیکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ فیس بک صارفین کا محفوظ شدہ ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:فیس بک کا داعش اور القاعدہ کے خلاف انتہائی بڑا اقدام 

 مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ان تمام ایپلیکیشنز کی تحقیقات ہوں گی جو 2014 سے قبل دستیاب تھیں،ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کیمبرج انالیٹیکا اسکینڈل کے بعد مزید حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے اور صارفین کا اعتماد بحال کیا جائے گا۔

فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا لیک کیے جانے کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صارفین کا اعتماد بحال کریں گے۔

مارک زکربرگ کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں امریکی کانگریس کے سامنے بھی وضاحت دینےکو تیار ہیں۔ میں فیس بک کا بانی ہوں اور اس پلیٹ فارم پر جو کچھ بھی ہوتا ہے۔ اس کا میں ہی ذمہ دار ہوں۔ اس کمیونٹی کو محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں اور کیمبرج اینالیٹیکا کے اس تجربے کے بعد کوشش کریں گے کہ اس طرح کے مزید واقعات سامنے نہ آئیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:گوگل، ایمازون، ٹوئٹر بھی ڈیٹا محفوظ کرتے ہیں، فیس بک کا انکشاف 

 واضح رہے کہ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی الیکشن کنسلٹنسی فرم کیمبرج اینالیٹیکا نے کروڑوں فیس بک صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کرکے اسے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔