نئے بلدیاتی ایکٹ کا بگل بج گیا،گورنر پنجاب نےدستخط کردئیے

نئے بلدیاتی ایکٹ کا بگل بج گیا،گورنر پنجاب نےدستخط کردئیے


لاہور( 24نیوز ) گورنر پنجاب چودھری سرور نے بلدیاتی نظام کے بل پر دستخط کردئیے،پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام دو درجوں پر مشتمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق نئے بلدیاتی نظام پر گورنر پنجاب چودھری سرور نےدستخط کردئیے جو کہ دودرجوں پر مشتمل ہے، شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل، دیہات میں تحصیل اور ویلیج کونسل ہوگی،گورنر پنجاب کا کہناتھا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا وعدہ پورا کررہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو مضبوط کر رہے ہیں، نئے بلدیاتی نظام میں مقامی سطح پر عوامی نمائندے بااختیار ہوں گے،بلدیاتی اداروں کو پنجاب کے بجٹ کا 33 فیصد بجٹ دیاجائے گا۔

بل کے تحت تحصیل اور ویلیج کونسل کا نظام قائم ہوگا،ضلع کونسل کے نظام کو ختم ہو جائے گا۔شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل جبکہ دیہات میں تحصیل اور ویلیج کونسل ہو گی۔ویلیج کونسل اورمحلہ کونسل میں فری لسٹ الیکشن ہوگا، زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین ہوگا، زیادہ سے کم ووٹ کی طرف عہدوں کی بالترتیب نمائندگی ہوگی، 22 ہزار ویلیج کونسل قائم ہوں گی ،138 تحصیل کونسل کے انتخاب ہوں گے،نئے بلدیاتی نظام میں 2013 کا بلدیاتی قانون ختم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے پنجاب میں ایڈمنسٹریٹر لگائے جائیں گے،ایک سال بعد(2020)میں بلدیاتی الیکشن  ہوگا،لاہور شہر میں 280 نیبر ہوڈ کونسلز جبکہ 142 ولیج کونسلز ہونگی،ڈسٹرکٹ اسمبلی میں 56 ممبرز ہونگے، ایک لارڈ مئیر اور ایک کنوینر ہوگا جبکہ 44 ریزرو ممبرز ہونگے،لاہور میں ایک ہی لارڈ مئیر ہوگا جس کا انتخاب براہ راست ہوگا،علاوہ ازیں بلدیاتی اداروں کی مدت پانچ سال تک ہوگی جتنے بھی اخراجات ہونگےوہ پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER