30لاکھ روپے سر کی قیمت والا ملزم ساتھی سمیت پولیس مقابلے میں پار



کراڈی( 24نیوز ) کراچی پولیس نے شہر کو دہشتگردوں اور قبضہ مافیا سے پاک کرنے کیلئے ایک اور کامیابی حاصل کرلی ہے،لیاری میں پولیس مقابلے کے دوران گینگ وار کا مطلوب ترین ملزم غفار ذکری، اپنے 3 سالہ بیٹے اور ساتھی چھوٹا زاہد سمیت مارا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں سب انسپکٹر اور 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے کے بعد لیاری گینگ وار کا مطلوب ترین ملزم غفار ذکری اور اس کا قریبی ساتھی چھوٹا زاہد مارا گیا، جبکہ پولیس نے ملزم کے دو مبینہ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا، مقابلے کے دوران ایک 3 سالہ بچہ بھی جاں بحق ہوا، جو غفار ذکری کا بیٹا تھا اور جسے ا±س نے ڈھال بنا رکھا تھا۔

ڈی آئی جی ساو¿تھ جاوید عالم کے مطابق لیاری کے علاقے علی محمد محلہ میں حساس اداروں کی نشاندہی پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرچ آپریشن کیا، اس دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی اور دستی بم سے حملے بھی کیے، فائرنگ کی زد میں آکر ایک سب انسپکٹر سمیت 2 اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا، ایک سب انسپکٹر کی حالت تشویش ناک،جنہیں پیٹ میں گولی لگی ہے جکہ ایک کانسٹیبل کو ٹانگ میں گولی لگی، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ملزمان سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا، جس میں سب مشین گنز (ایس ایم جی)، دستی بم، آوان بم، درجنوں گولیاں اور کئی میگزینز شامل ہیں۔

یاد رہے غفار ذکری اور اس کا ساتھی چھوٹا زاہد لیاری گینگ وار کے مطلوب ترین ملزمان تھے،غفار ذکری کے خلاف قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی کی کئی وارداتوں کے سلسلے میں لیاری، اولڈ سٹی ایریا، ماڑی پور اور بلدیہ کے مختلف تھانوں میں سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات درج ہیں،غفار ذکری 2002 میں گینگ وار کا حصہ بنا اور 2010 میں عزیر بلوچ گروپ سے اختلافات ہونے پر اس نے اپنا گروپ بنا لیا۔

لیاری گینگ وار کی تاریخ میں رحمان ڈکیت، عزیر بلوچ، ارشد پپو اور بابا لاڈلا کے بعد غفار ذکری اہم کردار تھا، جو کراچی آپریشن کے بعد روپوش ہوگیا تھا،خغفار ذکری کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔