کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے متاثرین کو 34 سال بعد بھی انصاف نہ مل سکا



اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کو34سال گزرنے کے باوجود قبضہ نہ مل سکا۔ شکایات کے با وجود تحقیقاتی ادارے خاموش ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی جس کا قیام آج سے 34 سال پہلے عمل میں لایا گیا تھا اور انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جتنے بھی چھوٹے طبقے کے ملازمین ہیں ان کو گھر بنا کر دئیے جائیں گے، لیکن اتنے سال گزر جانے کے باوجود بھی چھوٹے طبقے کے ملازمین سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہو سکا،جس پر متاثرہ ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔

غلام غوث چھ سال تک سپریم کور ٹ کو آپریٹو ہاﺅسنگ سوسائٹی کے صدر رہے، لیکن انھوں نے ممبران کے پیسوں پر خوب ہاتھ صاف کیا، جس کے نتیجے میں سوسائٹی شدید ترین مالی بے ضابطگیوں کا شکار رہی، غلام غوث اور ان کی انتظامیہ پر کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جس کے باوجود تحقیقاتی ادارے خاموش ہیں۔ ریگولیٹری ادارہ اور ضلعی انتظامیہ کے رجسٹرار نے بھی اس پر توجہ نہیں دی۔

جبکہ متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو پلاٹوں کا قبضہ دلایا جائے یا ان کی رقم واپس دلوائی جائے۔