العزیزیہ ریفرنس: نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کے مابین تلخ کلامی

العزیزیہ ریفرنس: نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کے مابین تلخ کلامی


اسلام آباد (24 نیوز)احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب پراسکیوٹر اور خواجہ حارث میں گرما گرمی ہوگئی، جبکہ عدالت نے تفتیشی افسر کو مطلوبہ ریکارڈ سے متعلق لکھے گئے یاددہانی خطوط کی نقول پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس پرسماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی ،نواز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔تفتیشی افسر محبوب عالم نے عدالتی حکم پر نیب اور ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ سے متعلق لکھے گئے خط کی نقول عدالت میں پیش کیں، خواجہ حارث نے جرح کے دوران پوچھا کہ کیا آپ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی تصدیق کو قانون شہادت پر پرکھا تھا؟ اور کیا اس پر تصدیق کنندہ کا نام موجود تھا؟

نیب پراسکیوٹر نے اعتراض کیا کہ کیا ہم سپریم کورٹ سے پوچھیں گے کہ کس نے تصدیق کی؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سوال تو ہم ان ہی سے پوچھیں گے، انہوں نے ہمارے خلاف شواہد پیش کئے۔تفتیشی افسر نے نیب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط کی کاپی عدالت میں پیش کردی اوربتایا کہ ہم نے تمام متعلقہ ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کیلئے ایک ہی خط لکھا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ کا خصوصی طور پر ذکر نہیں کیا، رپورٹ وصولی کے وقت نوٹس میں آیا کہ کسی بھی کاپی پر نہیں لکھا گیا کہ کب مانگی گئی اور کب جاری ہوئی، تصدیق کنندہ کا نام اور تاریخ بھی درج نہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کل آپ لوگوں نے ایف آئی اے اور نیب کو لکھے گئے خط سے متعلق جھوٹ بولا، جس پر نیب پراسکیوٹر اور خواجہ حارث کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی، اکرم قریشی نے کہا آپ کے موکل جھوٹے ہیں، پورا ملک لوٹ کر کھا گئے اور کہتے ہیں کہ معصوم ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ آپ یہاں سیاست کر رہے ہیں، فیصلے سے پہلے فیصلہ سنا رہے کہ ہم جھوٹے اور چور ہیں، ہم آپکے خلاف درخواست دائر کریں گے۔

اکرم قریشی نے کہا کہ درخواست تو ہم بھی آپ کے خلاف دائر کریں گے، کل آپ کی معاون وکیل نے مجھے گیٹ آؤٹ بولا، عائشہ حامد کے والد میرے کلاس فیلو تھے اس لیے بچی بولا تھا، جج محمد ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ کل عائشہ تھوڑا زیادہ غصہ کر گئی تھیں، استغاثہ اور دفاع آپس میں بات کرنے کی بجائے مجھے مخاطب کیا کریں۔خواجہ حارث کی استدعا پر عدالت نے تفتیشی افسر کو نیب اور ایف آئی اے کو لکھے گئے یاددہانی خطوط پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی، جج نے ریمارکس دیئے کہ نیب کو خطوط کی رازداری پر اعتراض ہو تو اس پر عدالت خطوط کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔