ملک کے منتخب سربراہوں کی تاریخ

ملک کے منتخب سربراہوں کی تاریخ


24 نیوز:صدروفاق کا سربراہ ہوتا ہے، ملک میں پہلی بار یہ عہدہ 1956 کے آئین میں متعارف کروایا گیا۔ موجودہ پارلیمانی نظام میں یہ غیر انتظامی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ صدر وزیراعظم کی تجویز پرعمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

قیام پاکستان سے 1956 تک ملک کا سربراہ گورنر جنرل ہوتا تھا تاہم 1956 میں پہلے آئین کے بعد صدر مملکت کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔ سب سے پہلے میجر جنرل سکندر مرزا صدارتی عہدے پر فائز ہوئے، صدر سکندر مرزا 27 اکتوبر 1958 تک اس عہدے پرفائز رہے۔۔

چیف ما رشل لاءایڈ منیسٹریٹرجنرل ایوب خان 27مارچ 1958 کوسکندرمرزا کوبرطرف کرکے خود صدر بن گئے۔ وہ ملک کےبطوردوسرے صدر 25مارچ 1969 تک اس عہدے پر رہے۔

پاکستان کے تیسرے صدر یحییٰ خان تھے۔ صدر ایوب خان نے اپنے دور صدارت میں انہیں 1966میں بری فوج کا سربراہ نامزد کیا، یحییٰ خان نے 25مارچ 1969ء کوایوب خان کے استعفے کے بعد عہدہ صدارت بھی سنبھال لیا۔ یحییٰ خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20دسمبر 1971 کو ختم ہوئے۔

چوتھے صدرذوالفقارعلی بھٹوتھے جنہیں 20دسمبر 1971 میں جنرل یحییٰ خان نے پاکستانی حکومت کی ذمہ داریاں سونپیں۔ وہ 20دسمبر 1971 سے 13اگست 1973 تک صدرمملکت کےعہدے پرفائزرہے۔

فضل ا لہیٰ چوہدری 1973 کے آئین کے تحت پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور 14اگست 1973 سے 16ستمبر 1978 تک پاکستان کے صدر رہے، جنرل ضیاء الحق کے اقتدار پر قبضے کے بعد 16ستمبر 1978 کو مستعفی ہو گئے۔

ستمبر1971 کو ضیاء الحق پاکستان کے چھٹے صدر بن گئے۔ تاہم 17اگست 1988 کو فضائی حادثے میں موت تک اس عہدے پر رہے۔

17اگست 1988 کو ہی بطور چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان نےصدرمملکت کے فرائض سنبھالے، 18 جولائی 1993 کواس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ اختلافات کے باعث حکومت کی برطرفی کے ساتھ ساتھ انہیں بھی صدارت کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

عام انتخابات کے انعقاد اورنئی حکومت تشکیل ہونے تک سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد ملک کے قائم مقام صدر بنائے گئے۔ وسیم سجاد 14 نومبر 1933 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

آٹھویں صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے اپوزیشن کےامیدواروسیم سجاد کو شکست دے کر 14نومبر 1993 کو پیپلزپارٹی کے دورحکومت میں صدارت کا منصب سنبھالا، فاروق احمد خان لغاری نے 5 نومبر 1996 میں اپنی پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کردی اورخود بھی 2دسمبر 1997 تک سے مستعفی ہوئے۔

اس دوران سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد ایک مرتبہ پھر قائم مقام صدر کے عہدے پر مامور کئے گئے۔

نویں صدرمحمد رفیق تارڑ یکم جنوری 1998 کو صدرمملکت بنے، 1999 میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے باوجود انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا اور وہ 20جنوری 2001 تک صدر رہے۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ملک متنازع ریفرنڈم کے زریعے 20جون 2001 کو ملک کے 10 ویں بن گئے، پرویز مشرف نے 18اگست 2008 کو قوم سے خطاب کے دوران اپنےاستعفے کا اعلان کیا۔

18 اگست 2008 کو محمد میاں سومرو صرف تین ہفتے کے لیے قائم مقام صدر بنے۔

سال 2008 کے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے آصف زرداری481 ووٹ لیکر گیارہوں صدر منتخب ہوئے،ان کے مقابلے میں ن لیگ کے سعید الزمان صدیقی153 اور مسلم لیگ ق نے 44 ووٹ لیے،آصف زرداری اس عہدے پر9ستمبر 2008 سے 9ستمبر 2013 تک رہے۔

بارہویں صدرمسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین منتخب ہوئے، جنہوں نے 9ستمبر 2013 کوعہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کی مدت 8ستمبر 2018 کو مکمل ہو رہی ہے

سال 2013 کے صدارتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ممنون حسین 432 ووٹ لیکر بارہویں صدر منتخب ہوئے، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف ڈاکٹروجیہ الدین کو صرف 77 ووٹ ملے۔