نواز شریف کی بیٹے سے تنخواہ لینے بارے غلط بیانی سامنے آگئی


اسلام آباد( 24نیوز ) شریف خاندان کےخلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا پر نواز شریف کی ملازمت کے کنٹریکٹ سے متعلق جرح جاری ہے،اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد سابق وزیراعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کےخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔
سماعت کے آغاز پر نواز شریف کی ملازمت کے کنٹریکٹ سے متعلق وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ملازمت کے کنٹریکٹ پر 10 ہزار درہم تنخواہ کاٹ کر لکھی گئی، آپ کو معلوم ہے کس نے لکھی تھی۔
جس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ کس نے لکھی مجھے نہیں معلوم لیکن اصل تنخواہ ایک لاکھ درہم لکھی تھی جسے کاٹ کر دس ہزار درہم لکھا گیا،واجد ضیا نے مزید کہا کہ نواز شریف کی ملازمت کا کنٹریکٹ میرے سامنے تیار نہیں ہوا تاہم دستاویزات تصدیق شدہ ہے جبکہ دبئی جانے والے جے آئی ٹی ارکان نے دستاویز پر مہر لگانے والے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے۔۔ڈار ضمنی ریفرنس،شریک ملزموں پر فرد جرم عائد
خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نے رپورٹ میں لکھا جے آئی ٹی کے 2 ارکان کیپیٹل ایف زیڈ ای کی دستاویز لینے گئے جس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ مجھے دیکھ کر بتانا پڑے گا۔
واجد ضیا نے بتایا کہ رپورٹ کے جلد 1 کے صفحہ7 پر لکھا ہے کہ جے آئی ٹی کے 2 ارکان متعلقہ ریکارڈ کے حصول کےلئے دبئی گئے جہاں سے انہوں نے شریف خاندان کے کاروبار سے متعلق ریکارڈ اور ثبوت اکٹھے کئے اور خاص طور پر ارکان کیپیٹل ایف زیڈ ای کی دستاویزات لینے گئے۔
واجد ضیا نے مزید بتایا کہ دونوں ارکان نے کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق دستاویزات کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا اور اسی سے متعلق شواہد لائے،سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔
نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔
دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 ا?ف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

نیب کی جانب سے ان تینوں ریفرنسز کے ضمنی ریفرنسز بھی احتساب عدالت میں دائر کیے جاچکے ہیں۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں