ٹیکس چوروں کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے بڑا علان کر دیا


اسلام آباد(24نیوز) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ہے کہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا قانونی جرم ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انکم ٹیکس ریٹ کافی حد تک کم کر دیا گیاہے۔ٹیکس ادا کرنا پوری دنیا میں شہری کی ذمہ داری ہے۔شناختی کارڈ نمبربھی آئندہ ٹیکس نمبر ہوگا۔ملک میں صرف 7لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ایک لاکھ ماہانہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ انکم ٹیکس ادا نہ کرنا قانونی جرم ہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کی آئندہ کی حکمت عملی پر بھی بات کی۔ وزیر اعظم کی جانب سے ملکی سیاسی و سلامتی کی صورتحال اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے متعلق بھی آگاہ کیا۔
وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا  کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے۔اگر دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی تو وہ پھر مل سکتے ہیں۔
اس سے قبل نجی چینل کے پرگفتگو کے دوران شاہد خا قان عباسی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے ملاقات پر قیاس آرائیوں کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کی تقریر میں کہہ چکے تھے کہ کچھ مشکلات ہیں۔اگر یہ مسائل رہیں گے تو پاکستان کے حالات خراب ہوں گے. اسی تناظر میں چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ان سے کھل کر بات کی اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس سے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی تو وہ پھر مل سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملاقات کرنے کے بعد انہیں بھی چیف جسٹس کی در پیش مشکلات کا اندازہ ہواہے. انصاف میں تاخیر ہو تو وہ انصاف نہیں کہلایا جاتا، ماضی میں عدلیہ سے غلطیاں ہوئی ہیں، جن سے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، امید ہے ماضی سے سبق حاصل کیا جائے گا۔اداروں کے درمیان تناو پوری دنیا میں رہتا ہے، لیکن وہاں یہ بریکنگ نیوز نہیں رہتا، میں ٹی وی نہیں دیکھتا، اس لیے میں تناو کا شکار نہیں ہوا۔
سینیٹ چئیرمین کے سوال پر انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ووٹوں کی خریدوفروخت کے نتیجے میں ایوانوں کے اند ر پہنچے ہیں ان کی مخالفت کو فرض سمجھتے ہیں۔جب بیچنے والے اور خریدنے والے آپس میں ملے ہوں تو ثبوت نہیں رہتے،کچھ جماعتوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ارکان نے ووٹ بیچے ہیں۔

خاقان عباسی نے اسفندیار ولی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی، پورا اصطبل ہی بک گیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کہا کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد ان لوگوں کے نام بھی لے لوں گا جو فروخت ہوئے ہیں۔