جوڈیشل یا مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں: چیف جسٹس پاکستان

جوڈیشل یا مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں: چیف جسٹس پاکستان


اسلام آباد (24 نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملکی آئین میں جوڈیشل یا کسی اور مارشل لاء کی گنجائش نہیں۔ عاصمہ جہانگیر بہت دلیر عورت تھیں۔

سپریم کورٹ بار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت نہیں ہم یہ غلاظت اور گندگی اپنے ماتھے پر لگائیں۔ ملک میں صرف جمہوریت اور آئین کی پاسداری ہو گی۔ قوم سے وعدہ ہے اگر آئین کے ایک حرف پر بھی آنچ آئی تو چیف جسٹس پاکستان ہونے کا بھی حق نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹیکس چوروں کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے بڑا علان کر دیا 

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سب کچھ آئین میں لکھا ہے۔ الیکشن کے التوا کی آئین میں گنجائش نہیں ہے۔ میرے ہوتے ہوئے آئین سے انحراف نہیں ہو گا۔ جیسا آئین میں موجود ہے اس کے مطابق الیکشن وقت ہی پر ہوں گے۔

مارشل لا کے تذکرہ پر انھوں نے کہا کہ آئین میں جوڈیشل یا کسی اور مارشل لاء کی گنجائش نہیں۔ اس کو اگر میں نہ روک سکا تو گھر چلا جاؤں گا۔ بطور چیف جسٹس کسی مارشل لاء کو معطل نہ کر سکا تو تو بوریا بستر لے کر چلا جاؤں گا۔