سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، ماحولیاتی آلودگی سے متعلق دائر کیس کی سماعت

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری، ماحولیاتی آلودگی سے متعلق دائر کیس کی سماعت


 کراچی (24نیوز):سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کراچی میں سماعت ہوئی،چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ عوام کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔چیف سیکریٹری رضوان میمن نے بتایا کہ کراچی میں پانچ انڈسٹریل ایریاز ہیں جہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ بننے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپکے بیان سے ایسا لگ رہا ہے جیسے مسئلہ حل ہی ہوگیا۔ ایسا ہی ہے تو حلف نامہ داخل کریں مسئلہ حل نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی کرینگے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کیا کہ وضاحت دیں یا ایک دن میں اپنا قبلہ درست کرلیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ عوام کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرینگے۔ سپریم کورٹ نےکہا کہ 45 کروڑ گیلن یومیہ فضلہ سمندر میں شامل کیا جا رہا ہے کوئی ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کررہا، ایڈووکیٹ جنرل سبدھ نے کہاکہ حکومت سندھ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منصوبے پر کام کررہے ہے جلد فنکشنل ہوجائیگا۔

چیف سیکریٹری رضوان میمن نے بتایا کہ کراچی میں پانچ انڈسٹریل ایریاز ہیں جہاں ٹریٹمنٹ پلانٹ بننے ہیں، منصوبے کی لاگت کا پچاس فیصد وفاق نے دینا تھا۔ دس روز قبل وزیراعظم نے ایکنک کے اجلاس میں پانچوں ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری دے دی ہے، چیف جسٹس نے منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بائیس تئیس دسمبر کراچی آرہا ہوں 23 دسمبر ہفتے کی چھٹی کے باوجود عدالت لگا ئینگے۔  پروجیکٹ کی تکمیل کی مدت کیساتھ حلف نامے لینگے مقررہ مدت میں کام نہ ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ سندھ حکومت کو سہارا دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔