پانامہ کیس کے فیصلے نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی: وزیراعظم

پانامہ کیس کے فیصلے نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی: وزیراعظم


اسلام آباد( 24نیوزوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ اہم تھا جس نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی۔  وہ معاشرہ آگیا جس میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی آبادی پر توجہ  کے موضوع پر ہونے والے سمپوزیم میں کہا  کہ  پہلا وزیراعظم ہوں جسے  چیف جسٹس نے دعوت دی، شکر ہے سپوزیم میں بلایا، کورٹ روم نمبر ایک میں نہیں بلایا۔

انھوں نے کہا سب کو قانون کے دائرے میں لانے کا کام سپریم کورٹ نے شروع کیا اور طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانے کا آغاز پاناما کیس سے ہوا، اس سے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک وزیراعظم بھی قانون کے نیچے آئے گا۔وزیراعظم نےبتایا کہ برطانیہ میں میگنا کارٹا بادشاہ کو قانون کے نیچے لانا چاہتا تھا، بادشاہ کو قانون کے نیچے لانےکی سوچ سے برطانیہ میں قانون کی جدوجہد شروع ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی معاشروں کی ترقی کا راز ہے،  قانون میں تبدیلی کے لیے 6 ترامیم لا رہے ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کئی جگہ سے سنا کہ بنگلہ دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا لیکن آج وہی بنگلہ دیش آگے کی طرف جارہا ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہم معاشی دباﺅ کا شکار ہیں:چیف جسٹس 

چیف جسٹس پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چالیس سال میں کوئی ڈیم نہیں بنا،سالانہ سات ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے،تعمیرات کی بھرمار سے سبزہ زاروں میں کمی آگئی ہے،وسائل محدود ہیں اور ضروریات لامحدود۔لاہور جیسے بڑے شہر تعمیرات سے بھر چکے ہیں،بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہم معاشی دباﺅ کا شکار ہیں،کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے تعلیم ضروری ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی ایک عفریت ہے،ساٹھ سے ہم نے آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا۔

عمران خان کی نیت صاف ہے،ملک ضرور فلاحی ریاست بنے گا: مولانا طارق جمیل

مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسن الخالقین ہے،آبادی بڑھنے کی وجہ جہالت ہے،دیہاتی لوگ اولاد نرینہ کی خواہش میں زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں،میرے ملک کا مسئلہ منصوبہ بندی نہیں علم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور میں گورنمنٹ کالج لاہور میں اکٹھے پڑھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان وہ پہلا مخلص وزیر اعظم ہے جس نے ملک کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کیا،اللہ صاف نیت والوں کے ساتھ ہوتا ہے،انسان جب بھی اللہ سے مانگے گا اللہ اسے دے گا۔معاشی دباﺅ بھی آبادی بڑھنے کی وجہ ہے۔

وزیر اعظم نے جس کام کو بھی شروع کیا بچے بچے کا ماٹو بن گیا:شہزاد رائے

سماجی رہنما،گلو کار شہزاد رائے نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جس کام کو بھی شروع کیا بچے بچے کا ماٹو بن گیا،چیف جسٹس صاحب نے آبادی پر قابو پانے کیلئے مہم شروع کی ہے تو اس میں سب کو شامل ہونا چاہئے۔انہوں نے ”جو پیار تھا ملا نہ مجھ کو،جو میرا حق تھا ملا نہ مجھ کو،لگتا ہے میں اک بھیڑ کا حصہ ہوں،اک بھیڑ کا حصہ ہوں“گایا۔

بڑھتی آبادی کا واحد حل خاندانی منصوبہ بندی ہے:جاوید جبار

سابق وفاقی وزیر جاوید جبار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی آبادی کا واحد حل خاندانی منصوبہ بندی ہے،دیہات میںاس حوالے سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے،آبادی پر کنٹرول کیلئے میڈیا کا اہم کردا ر ہے،ٹی وی چینلز اس معاملے میں آگے بڑھیں۔

آبادی بڑھنے کی وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں:ڈاکٹر ثانیہ نشتر

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی بڑھنے کی ایک وجہ کم عمری کی شادیاں ہیں،بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہونگے، پاکستان میں کچھ دہائیوں سے آبادی زیادہ بڑھی،شرکاءکو دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

آبادی پر قابو پانے کیلئے سپریم کورٹ نے بیڑا اٹھا لیا

ملک کی بڑھتی آبادی پر قابو پانے کیلئے سپریم کورٹ نے بیڑا اٹھا لیا،چیف جسٹس نے آج وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ کو بلا لیا۔ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے معاملے پر غور کے لیے آج سپریم کورٹ میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا،اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار، وزیراعظم عمران خان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے،اجلاس کے دوران آبادی پر قابو پانے کے لیے فیصلوں اور رہنمائی کے لیے 31 دسمبر تک ٹاسک فورسز بنائی جائیں گی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے خصوصی فنڈ بنائے جانے کا بھی امکان ہے۔

یاد رہے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے لندن کے دورہ کے دوران آبادی پر قابو پانے کیلئے مہم چلانے اور اقدامات کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے اعلان کیا تھا۔

 مزید  اہم خبریں اور تبصرے جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں:    https://www.youtube.com/watch?v=YBZtZyGwOXY