کسی کو فیصلوں پر افسوس ہے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا:چیف جسٹس



اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں وفاقی وزیر اعظم سواتی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی  زلفی بخاری  کیخلاف الگ الگ مقدمات کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ آپ کیخلاف کارروائی کر کے ملک کیلئے مثال قائم کریں گے، کیوں نہ اس کیس کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت دیکھیں، سپریم کورٹ نے معافی کی استدعا مستردکردی، سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں دو عدالتی معاون مقرر کر دئیے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت کی،دوران سماعت سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا،جواب پڑھ کر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ سیدھا 62 ون ایف کا کیس ہے،اس کے تحت ہی کارروائی کریں گے۔

چیف جسٹس نے سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے بولے کہ آپ حاکم وقت ہیں اور رعایا کیساتھ آپ کا یہ سلوک ہے؟ایسے ہوتے ہیں حکمران؟اگر بھینس کھیت میں گھس گئی جو کہ حقیقت میں گھسی بھی نہیں تو کیا غریب لوگوں کوجیل بھجوا دیں ؟

چیف جسٹس کے استفسار پر آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نے کیا کارروائی کی ؟کیا یہ ہے اسلام آباد کی مثالی پولیس؟آئی جی بولے کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اس لیے ایکشن نہیں لیا،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کسی نے فوجداری کارروائی سے تونہیں روکا،دوران سماعت سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے سینیٹر اعظم سواتی کو معاف کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیاخسماعت 24 دسمبر تک ملتوی کردی۔

چیف جسٹس زلفی بخاری کی کارکردگی پر مسکرا دئیے

اعظم سواتی کے مقدمہ کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،سماعت کے موقع پر زلفی بخاری عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ دنوں زلفی بخاری سے متعلق بیان کا جواب دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہم نے پچھلی سماعت پر اقربا پروری کا ذکر کیا تھا اور فیصلے میں بھی لکھا تھا،کسی کو اس بات پر افسوس ہوا تو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں بیس بار بولوں گا کہ زلفی بخاری کی تقرری میں اقربا پروری کی گئی۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ اقربا پروی پر تقرریاں ہونگی تو عدالت مداخلت کریگی،عدالت کے پاس نظر ثانی کا اختیار ہے،کسی کو افسوس ہواہے تو ہم اپنے فیصلے بدل نہیں سکتے،عدالت کا یہ کام ہے کہ انتظامیہ کو ٹھیک کرے، ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ غالبا ًکسی نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ یہ مقدمہ کووارنٹو کا ہے،اقربا پروری تو ایک گراﺅنڈ کے طور پر زیر بحث آیا تھا۔

زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے زلفی بخاری کا پروفائل عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہاکہ زلفی بخاری وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہیں،انہوں نے بطور مشیر بہت کارکردگی دکھائی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں زلفی بخاری کی کارکردگی سے لینا دینا نہیں،ہم نے قانون کے مطابق چیزوں کو دیکھنا ہے۔

بیرسٹر اعتزازاحسن نے کہاکہ ہمیں بہتر کارکردگی دکھانے والے ایسے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم ان لوگوں کو ابھی دیکھ کر آئے ہیں جو پاکستان سے محبت میں سرشار ہیں،اعتزاز احسن نے کہاکہ زلفی بخاری نے بھی ایک ایسا کام کیا ہے جس کو سن کر آپ مسکرا دیں گے، زلفی بخاری نے اپنی ساری تنخواہ ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کر رکھا ہے جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہاکہ یہ اچھی بات ہے،مقدمے کی مزید سماعت 24 دسمبر کو ہوگی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer