شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈضمنی ریفرنس تحقیقاتی رپورٹ میں نئےانکشافات


اسلام آباد (24 نیوز) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ضمنی ریفرنس تحقیقاتی رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے۔ نیب کی تحقیقاتی رپورٹ میں نواز شریف اور مریم نواز کو کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث قرار دے دیا گیا۔ نیب نے خود ساختہ اور جعلی بیان حلفی دینے پر طارق شفیع کیخلاف بھی کارروائی کی سفارش کردی۔

شریف خاندان کے خلاف ضمنی ریفرنس کے معاملے پر ایون فیلڈضمنی ریفرنس /تحقیقاتی رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے۔ رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے عوامی عہدہ رکھتے ہوئے ایون فیلڈ فلیٹس خریدے جو کہ ان کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

شواہد کے مطابق مریم اور حسین نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ عدالت میں جمع کرائی۔ ٹرسٹ ڈیڈ پر کیپٹن (ر) صفدر نے بھی دستخط کئے۔ مریم نواز نومبر 2011 میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ لندن میں ان کی کوئی جائیداد نہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اسٹیٹمنٹس میں کہا گیا کہ حسین نواز 2006 سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹنس کے مالک ہیں۔

برٹش ورجن آئی لینڈ کے جے آئی ٹی کو جواب میں مریم نواز کے دو آف شور کمپنیوں کے بینیفشل آنر ہونے کی تصدیق کی گئی۔ نیلسن، نیسکال لیمیٹڈ اور کومبرگروپ کی ٹرسٹ ڈیکلریشن تحقیقات کا اہم جزو ہے۔ ایون فیلڈ عبوری ریفرنس دائر کئے جانے سے پہلے اور بعد میں شریف فیملی کو نوٹس جاری کئے گئے۔

دستاویزات کے مطابق نیب نے شریف فیملی کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی اسٹیٹمنٹس اور میڈیا پر بیانات کا موازنہ کیا۔ تحقیقاتی رپورٹ نیب کے تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمران نے تیار کی ہے۔