ٹھٹھہ :450 سال پرانی مسجد، سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی رہتی ہے


ٹھٹھہ (24نیوز) ٹھٹھہ میں450 سال پرانی اور 1057 ہجری میں تعمیر ہونے والی شاہ جہاں مسجد جو پاکستان میں سب سے زیادہ گنبدوں والی مسجد ہے،جس میں ایک ہی وقت میں بیس ہزار سے زائد نمازی نماز بھی ادا کرسکتے ہیں اور اس میں ایک خوبی بھی موجود ہے کے سخت گرمی کے ٹھنڈی رہتی ہے اور گرمی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
ٹھٹھہ میں واقع شا ہ جہان مسجد تاریخی آثاروں میں سے ایک ہےمسجد شہنشاہ شاہ جہاں باد شاھ نے 1057 ہجری میں تعمیر کرائی۔ جس کي تعمیر پر اس دور کے نو لاکھہ شاہجہانی روپے خرچ ہوئے۔ مسجد میں چھوٹے بڑے سو گنبد ہیں اسی وجہ سے اسے سو گنبد والی مسجد بھی کہا جاتا ہے ان گنبدوں کی ترتیب اور ہوا کی آمدورفت کا انتظام اس خوبی کے ساتھہ کیا گیا ہے کہ سخت گرمی میں بھی موسم کي شدت کا احساس نہیں ہوتا۔
مسجد میں ایک ہی وقت میں بیس ہزار سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد میں نقش و نگار اور کاشی کا انتہائی خوبصورتی سے کیا گیا کام جسے دیکھتے ہی دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں کو قرآنی آیات کے کتبے سے سجایا گیا ہے سنگ مرمر کے پتھر کاشی کے کام اور مغلیہ طرز کے نقش ونگار نے مسجد کی خوجصورتی کو نمایاں کر دیا ہے فن پاروں نے اپنے فن سے ایسے نقش و نگار بنائے ہیں جو اپنی مثال آپ ہے۔
شاہ جہاں مسجد میں قرآن پاک کی تلاوت بغیر لا ؤڈ اسپیکر باآسانی سنائی دیتی ہے۔  اس خوبصورت مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ اس میں امام کی آواز بغیر کسی مواصلاتی آلہ کے پوری مسجد میں گونجتی ہے۔ جامع مسجد کی کاشی کاری اسے دیگر عمارات سے ممتاز کرتی ہے۔ عمارت کے گنبد فن تعمیر کا حسین نمونہ ہیں۔ محکمہ ئے آثارے قدیمہ کی عدم توجہ اور ٹھیک سے دیکھ بحال نہ ہونے کی وجہ زبون حال ہو رہی ہے اس کے باوجود آج بھی یہ فن تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں