جن کی آواز کوئی نہیں سنتا , سوشل میڈیا ان کی آواز بن گیا


اسلام آباد(24نیوز) سوشل میڈیا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے نئی راہیں متعین کر دی ہیں، جو آواز پہلے کوئی نہیں سنتا تھا اب دیکھتے ہی دیکھتے زبان زدعام ہوجاتی ہے،مقبوضہ کشمیر کے پہلے ڈیجیٹل فریڈم فائٹر نے آزادی کی تحریکوں کو نئی شکل دی۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا ہی کی طاقت ہے کہ اب آزادی کی تحریکیں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہیں۔ سوشل میڈیا کشمیریوں کے لئے بھی ایک بڑا ہتھیار ثابت ہوا کیونکہ بھارتی میڈیا ان کی جدوجہد آزادی کو مکمل طور پر بلیک آؤٹ کررہا تھا۔  ایسے میں کشمیر سے اس صدی کا پہلا ڈیجیٹل فریڈم فائٹر پیدا ہوا۔ جس کا نام تھا برہان وانی۔   2013 میں برہانی وانی سے سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی تحریک شروع کی اور دنیا کو بھارتی فوج کا سیاہ چہرہ دکھایا۔

پھر ایک ایسا وقت آیا کہ برہان وانی بھارتیوں کے اعصاب پر چھا گیا اور بھارتی میڈیا پر ہر جگہ اسی کا نام لیا جانے لگا۔ برہان وانی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی ویڈیو بناتا اور اسے پلک جھپکتے میں سوشل میڈیا پر ڈال دیتا۔ وہ ہر روز سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی نسل کشی کی بے شمار ان کہی کہانیاں سناتا تھا۔ اپنی ان ہی بے دھڑک پوسٹ کی وجہ سے برہانی وانی جلد ہی کشمیر کے پوسٹر بوائے کے نام سے مشہور ہو گیا۔ وانی اب آزادی کی علامت تھا۔ اس نے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف خاموش اقوام عالم کو آئینہ دکھایا اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔

واضح رہے کہ برہان وانی بھارتی فورسز کی ہٹ لسٹ پر آگیا .بھارتی فورسز تمام دن سراغ رساں کتوں کی طرح برہان وانی کو تلاش کرتی پھرتیں۔ اور پھر 8 جولائی 2016کو بھارتی فوج نے برہان وانی کو شہید کردیا۔ برہانی وانی کی شہادت پر کشمیر کا سوشل میڈیا ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔ نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں سینکڑوں ہیش ٹیگ چلائے گئے۔ کشمیریوں کا ردعمل اس قدر شدید تھا کہ بھارت میں فیس بک پر برہان وانی کے حامیوں کے اکاؤنٹس بند کئے جانے لگے۔  جس کے بعد سوشل میڈیا کی جنگ فیس بک سے ٹویٹر پر منتقل ہوگئی۔