حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ آ گیا

حدیبیہ پیپر ملز کیس کا فیصلہ آ گیا


اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز اپیل کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ 36 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا۔

فیصلہ کے مطابق شریف خاندان کو اپنے دفاع کے حق سے محروم رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں واضح کر دیا کہ حدیبیہ ریفرنس زائد المعیاد ہے۔ فریقین کیخلاف 1990 میں بے نامی غیر ملکی اکاؤنٹس کھولنے پر ریفرنس دائر کیے گئے جبکہ ہائیکورٹ نے ریفرنس درست طور پر مسترد کیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ  معاملے کی دوبارہ تفتیش نہیں ہو سکتی۔ ایک جسٹس  ہائیکورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔ چئیرمین نیب نے 4 سال مقدمہ کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ ریفرنس کو غیرمعینہ مدت کے لیے التواء میں رکھ کر قانونی عمل کی توہین کی گئی۔ احتساب عدالت میں ریفرنس قریب المرگ ہو چکا تھا۔

تازہ فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ شریف خاندان کو اپنے دفاع کےحق سے محروم رکھا گیا۔ ریفرنس کا مقصد ملزمان کو دباؤ میں لانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی شخص پر الزام کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے تاکہ قصوروار کو سزا اور بے قصور بری کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان میں سے کسی نے بھی کیس کو ملتوی کرنے کی استدعا نہیں کی۔ ملزمان کے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے پر نیب متحرک ہو گئی۔ فیصلہ کے مطابق نیب نے حدیبیہ کیس کی اپیل  1229 ایام کے بعد دائر کی اور نیب تاخیر کی وجوہات نہیں بتاسکا۔

نیب کی جانب سے نواز شریف، شہباز شریف کی خود ساختہ جلاوطنی کا موقف اپنایا گیا جبکہ خودساختہ جلاوطنی کا مؤقف حقائق کے برخلاف ہے۔