پاکستان کو آمریت کے ادوار میں امریکہ نے زیادہ عسکری امداد دی


اسلام آباد (24 نیوز) امریکہ کی پاکستان کو امداد بند کرنے کی دھمکیاں نئی بات نہیں، ماضی میں بھی ایسا کچھ ہوتا آیا ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی فوجی امداد اس وقت ہی ملی جب امریکہ کو پاکستا ن کی ضرورت پڑی۔

ماضی میں پاک بھارت جنگوں کے موقع پر امریکہ نے فوجی امداد بند کر دی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے ایٹمی پروگرام روکنے کے لیے 11 برس تک امداد پر پابندی لگائے رکھی۔

امریکا دنیا میں جمہوریت کا حامی تو ہے لیکن پاکستان کو زیادہ امداد اس وقت ہی ملی جب ملک میں آمریت تھی۔

پاکستان کو پہلی بار 1955 میں امریکی فوجی امداد ملنا شروع ہوئی۔ 1965 میں پاک بھارت جنگ کے بعد امداد میں 90 فیصد تک کٹوتی کر دی گئی۔ 1971ءکے بعد آٹھ برسوں میں صرف 72لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ 1979 کا سال آیا تو واشنگٹن نے جوہری جواز بنا کر کنارہ کشی کر لی ۔

روس کے افغانستان میں وارد ہونے پر امریکہ کو پاکستان پھر یاد آ گیا اور  ڈالروں کی ترسیل شروع کردی۔ روسی فوجوں کا انخلا ہوا تو ساتھ ہی 9 سال تک فوجی امداد مکمل روک لی گئی۔

نائن الیون کا سانحہ پیش آیا تو پرائی جنگ میں پاکستان کو جھونک دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک ارب 70کروڑ ڈالر بھی دیئے گئے۔

1948 سے اب تک امریکہ نے 65 ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا مگر انتہائی کم دیئے گئے اور زیادہ تر ڈالرامریکہ ہی میں رہ گئے۔