چودھری برادران کی مولانا کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر قائل کرنے کی کوشش ناکام

چودھری برادران کی مولانا کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر قائل کرنے کی کوشش ناکام


اسلام آباد( 24نیوز ) چودھری برادران نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی ادارے کو متنازع نہیں بنانا چاہتے ۔

تفصیلات کے مطابق  چودھری برادران نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، ملاقات میں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہی، صوبائی وزیر عمار یاسر موجود تھے، ملاقات میں موجود تازہ سیاسی صورت حال اور پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ ترمیم بل پر بھی مشاورت  کی گئی، چوہدری پرویز الٰہی نےمولانا فضل الرحمان کو آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر حکومت کا ساتھ دینے پر قائل کرنے کی کوشش کی۔

 چوہدری برادران سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت کا موقف وضاحت کے ساتھ آچکا ہے، مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشاورت سے جماعت کا فیصلہ قوم تک پہنچ چکا ہے، ہم نے پہلے بھی کہا تھا ہم فوج کو سیاست کے میدان میں نہیں گھسیٹنا چاہتے، حکومت نے فوج اور جنرل باجوہ کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

فوج کو عدالتی محاذ پر گھسیٹنے سے صورتحال مشکل بنی اور عدالت کے فیصلے سے آشکار ہوا کہ قانونی سقم میں حکومتی نااہلی سامنے آئی یہ معاملہ اس اسمبلی کے فلور پر آرہا ہے جس پر تمام جماعتیں متفق ہیں کہ یہ جعلی ہے، جمیعت علماء اسلام جعلی اسمبلی کے قانون سازی کے حق کو تسلیم نہیں کرتی، عملی انداز ہمارا کیا ہوگا؟ پارلیمانی پارٹی مسلسل غور کررہی ہے، عجلت کے ساتھ قانون سازی سے مزید ابہام پیدا ہونگے۔

ان کا کہناتھا کہ قانون کے مسودے میں بھی ابہام ہیں، حکومت نے مسودے کے متن پر اپوزیشن سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی، دوسری اپوزیشن پارٹی پروسیجر کی بات کررہی ہیں حکومت معاملے کو بلڈوز کرنے کی کوشش کررہی ہے، ہم ایک اصول کے تابع ہیں اسی اصول کے تحت سیاست کرتے ہیں، وقتی طور پر ایمرجنسی نافذ کرکے فیصلوں سے جمہوریت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہونگے۔

مولانا کا کہناتھا کہ چھ ماہ کا وقت ہے اسمبلی تحلیل کرکے نئی اور جائز اسمبلی سے قانون پاس کرلیا جائے،آصف علی زرداری سے تاحال رابطہ نہیں ہوا،شہباز شریف سے میں نے رابطہ کرکے کہا ہے کہ آپکی جماعت کا فرض تھا اپوزیشن کو اکھٹا کرتے کسی پارٹی کا موقف سخت ہوتا ہے کسی کا نرم ہوتا ہے، درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے، اپوزیشن لیڈر کو اپوزیشن کے مشترکہ موقف کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تھی۔