ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ،نوازشریف رکاوٹ بن گئے

ایون فیلڈ ریفرنس فیصلہ،نوازشریف رکاوٹ بن گئے


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے افراد حسن نواز،حسین نواز،مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر)محمد صفدر کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ ہوچکا ہے جو کل سنایا جائیگا، لیکن نواز شریف اس فیصلے کے سامنے رکاوٹ بن گئے ہیں اور انہوں نے اسے موخر کرنے کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نواز شریف نے لندن فلیٹ ریفرنس کا فیصلہ 7 دن کیلئے موخر کرنے کیلئے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں درخواست دائر کردی۔ نوازشریف کے وکیل نے بیگم کلثوم نواز کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی درخواست کے ساتھ لگائی ہے۔ نوازشریف نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان واپس آکر پیش ہونے کیلئے کچھ وقت چاہئے، لہذا فیصلہ موخر کیا جائے۔
گزشتہ روز لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے فیصلہ چند روز تک موخر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ بزدل آمر کی طرح بھاگنے والا نہیں بلکہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہوکر فیصلہ سننا چاہتا ہوں، فیصلہ کچھ دن موخر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، فیصلہ کمرہ عدالت میں جج صاحب کی زبان سے سننا چاہتا ہوں اسی لیے سو کے قریب پیشیاں بھگتی ہیں، میں ڈکٹیٹر نہیں ہوں کہ ڈر کر بھاگ  جاﺅں، میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر عوام کے ساتھ ہوں اور قوم میرے ساتھ ہے، 2017 سے اب تک ہر طرح کے فیصلوں اور کارروائیوں کا سامنا ہے، سارا پاکستان ہی نہیں دنیا میرے خلاف انتقامی کارروائیوں سے آگاہ ہے، اس کے باوجود یہ فیصلہ بھی میں اسی کمرہ عدالت میں جج کے منہ سے سنا چاہتا ہوں جس میں میں نے اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ پیشیاں بھگتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہد خاقان عباسی کی تاحیات نااہلی کالعدم قرار

نواز شریف نے کہا کہ مجھے معلوم ہے میں نے جس مشن کا جھنڈا اٹھایا ہے، وہ کوئی آسان مشن نہیں ہے لیکن میں عوام کے حق حکمرانی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں، میں عوام کا نمایندہ ہوں، کسی بھی بزدلی کا مظاہرہ کرکے قوم کو مایوس نہیں کروں گا، ووٹ کو عزت دو کے مشن میں قوم کے ساتھ اور قوم میرے ساتھ کھڑی ہے، 25 جولائی کو عوام کا فیصلہ قوم کی تقدیر بدلے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ جیپوں والے سمیت عوام کی حکمرانی کا راستہ روکنے والے عبرت کا نشانہ بنیں گے،کہ جیسے ہی میری اہلیہ ٹھیک ہوتی ہیں تو واپس جاو¿ں گا اور حالات کا سامنا کروں گا، ایک سال کے اندر 100 پیشیاں بھگت چکا ہوں اور اب اس موڑ پر گھبرانا تھا تو یہ سب کیوں کرتا۔